یتیم
ایک اور ایس ایم ایس
بلاول: ابو دو سال ہوگئے مسکین ہوئے، امی کے قاتل کا کیوں نہیں پتا چلا؟؟؟
زرداری: بیٹا ابھی تک تو مسکین ہو ، قاتل کا پتا چل گیا تو یتیم بھی ہوجاؤ گے..
ایک اور ایس ایم ایس
بلاول: ابو دو سال ہوگئے مسکین ہوئے، امی کے قاتل کا کیوں نہیں پتا چلا؟؟؟
زرداری: بیٹا ابھی تک تو مسکین ہو ، قاتل کا پتا چل گیا تو یتیم بھی ہوجاؤ گے..
بھائیوں اور ان کی بہنوں
میں نے آج اپنے فیس بک کے تمام اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیے ہیں اور ساتھ ہی اپنے جاننے والوں سے بھی اپنے سامنے ڈیلیٹ کر وا دیے ہیں. آپ بھی ایسا کر لیں تو اچھا ہے ، نہیں کرتے تو آپ لوگوں کا اللہ ہی حافظ……
ایک لڑکی نقاب کئے بس سٹاپ پر کھڑی تھی
ایک بندہ موٹر سائیکل پر وہاں رکا اور لڑکی سے کہا
چلتی ہے کیا؟؟؟
لڑکی نے شرم اور گھبراہٹ سے جواب دیا
………ابو ! میں ہوں………..
ہمارے ایک جاننے والے ہیں وہ کسی کام سے کچھ دن پہلے ہمارے ہاں آئے تو باتوں باتوں میں موبائل فون کی تباہ کاریوں پر بحث چھڑ گئی اور وہ لگے قصے سنانے جو کہ میں مرحلہ وار تین پوسٹوں کی صورت میں پیش کروں گا. تو پہلا قصہ کچھ یوں ہے :
ایک لڑکی موبائل فون پر کسی سے چھپ کر باتیں کیا کرتی تھی. اور باتوں ہی باتوں میں بات گھر سے بھاگ جانے تک پہنچ گئی اور یہی ہوا کہ وہ لڑکی ایک دن گھر سے بھاگ گئی.
اب لڑکی تو بھاگ گئی اور ظاہر ہے کہ یہ بات دکھ کے ساتھ ساتھ گھر والوں کے لئے باعثِ شرم بھی تھی. پر عورتوں کی جہالت کا عالم دیکھیں کہ لڑکی کی ماں رو رو کر سب کو بتا رہی ہے کہ
میری بیٹی ولی اللہ تھی ، میری بیٹی ولی اللہ تھی…..
سب نے پوچھا کہ بھئی تو یہ کیا کہہ رہی ہے؟
تو اس پر اس نے جواب دیا کہ میری بیٹی پچھلے ایک دن سے لگا تار ایک ہی بات کررہی تھی …
سب نے پوچھا وہ کیا؟؟
تو اس پر اس نے جواب دیا کہ وہ کہہ رہی تھی کہ
”کل سے اس گھر میں ہم میں سے ایک بندہ کم ہوگا “.
اور اس کی بات سچ ہوگئی.
چھوڑ چکے تیری راہیں بھی
بھول چکے تیری با تیں بھی
سپنے اپنے رکھے ہوئے
دفنا چکے اپنی خواہشیں بھی
عشق کی راہیں چلتے چلتے
تھک چکے اپنے پاؤں بھی
تمہارے بعد تو لگتا ہے جیسے
بھول چکے ہم ہنسنا بھی
وقت نے تو زندہ مار دیا
بھول چکے ہم جینا بھی
ساغر
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہو گی
سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہو گی
کب جان لہو ہو گی، کب اشک گُہر ہو گا
کس دن تری شُنوائی اے دیدہ تر ہو گی
کب مہکے گی فصلِ گل کب بہکے گا میخانہ
کب صبحِ سخن ہو گی، کب شامِ نظر ہو گی
واعظ ہے نہ زاہد ہے، ناصح ہے نہ قاتل ہے
اب شہر میں یاروں کی کس طرح بسر ہو گی
کب تک ابھی راہ دیکھیں اے قامتِ جانانہ
کب حشر معیّن ہے تجھ کو تو خبر ہو گی
فیض احمد فیض
پٹھان کسی جگہ سے گزررہا تھا کہ اچانک اس کے پیچھے ایک کتا لگ گیا اور بھونکنا شروع کر دیا
پٹھان بھاگنے لگا اور کتا بھی اس کے پیچھے پیچھے بھونکتا ہوا بھاگنے لگا
پٹھان نے غصے سے کہا کہ اگریہ تمہارا ملک نہ ہوتا اور تمھارے باپ کاحکومت نہ ہوتا تو ہم تم کو بتاتا
خیر یہ تو ایک ایس ایم ایس تھا جو مجھے ملا پر اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا جب میں رکشے میں بیٹھ کر اپنے کام پر جا رہا تھا، رکشے والا پٹھان تھا اور بیٹھنے سے پہلے میں نے اس سے طے کرلیا کہ کہاں جانا ہے اور کتنے پیسے دینے ہیں اس کو.
خیر جہاں میں نے جانا تھا وہاں کھدائی کی وجہ سے راستہ بند تھا تو میں نے رکشے والے کو کہا کہ پچھلے راستے سے چل وہ آسان بھی ہے اور چھوٹا بھی. پر وہ تو پٹھان تھا کہنے لگا اب تو میں 70 روپے لوں گا. میں نے پوچھا کس بات کے جب بات 40 روپے کی ہوئی تھی تو 70 کیوں تو کہنے لگا تم نے کہا تھا کہ چوک میں اترنا ہے اور اب تم ہمیں کسی اور جگہ لے کر جا رہے ہو. وہ کچھ بڑی عمر کا تھا اس لئے میں نے اس کے ساتھ الجھنا مناسب نہیں سمجھا اور کہا کہ چل ٹھیک ہے مجھے چوک میں اتار دے جب میں چوک میں اترا تو میں نے پیسے دیتے ہوئے اس سے کہا کہ خان صاحب ویسے یہ ٹھیک بات نہیں ہے اور آپ زیادتی کر رہے ہیں تو اس نے مجھ سے کہا کہ تم اپنا ملک میں ہے اس لئے ایسی بات کررہا ہےذرا ہمارے ملک آؤ پھر ہم تم کو بتاتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ، اس پر میں نے کہا کہ تم یہاں رہتے ہو یہاں کام کرتے ہو یہ بھی تمہارا ملک ہے تواس نے کہا کہ نہیں یہ تمہارا ملک ہے ہمارا نہیں. اور غصے سے چلا گیا. اور میں دیکھتا رہ گیا.
صد افسوس کہ پیارے وطن میں یہ وقت بھی دیکھنا نصیب ہونا تھا کہ جن لوگوں کے کل تک محبِ وطن ہونے میں کوئی شک و شبہ نہ تھا آج وہ ہم سے اتنا دور جا چکے ہیں کہ بظاہر واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا. کاش ہمارے حکمرانوں میں کوئی ایسا اہلِ نظر پیدا ہو جو بچھڑتے ہوؤں کو پھر سے ملا دے . آمین
ایک بندہ گا ؤں میں اپنے کسی دوست کے پاس بیٹھا باتیں کر رہا تھا پاس ہی دوست کی بچی دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی. اس بندے نے بچی کو بلایا اور ایک مٹکا دے کر اسے کہا کہ جاؤ اس میں پانی بھر کے لاؤ بچی جانے لگی تو بچی کے باپ نے اسے واپس بلایا اور جب بچی اس کے قریب آئی توبچی کے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا کہ مٹکا توڑ کے نہ لانا جس پر اس کے دوست نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہوئی ابھی تو وہ گئی بھی نہیں تھی اور مٹکے کو کچھ ہوا بھی نہیں تو تم نے اسے کیوں مارا تو بچی کے باپ نے جواب دیا کہ مجھے معلوم تھا کہ یہ یہاں سے جائے گی اور پھر بچوں کے ساتھ کھیلنےلگ جائے گی اور کھیل کھیل میں مٹکا توڑ دے گی جس وجہ سے نہ ہی پانی آئے گا اور نہ ہی مٹکا بچے گا. چونکہ بعد میں مارنے کا کوئی فائدہ نہیں اسی لئے میں نے پہلے ہی اس کے دل میں یہ بات بٹھا دی کہ مٹکا ٹوٹنا نہیں چاہیے اور کھیل میں مگن ہو کر کام بھول نہ جانا. اب یہ بچی اس چیز کا خیال رکھے گی اور اس کو اندازا ہوگا کہ اگر اس نے کام خراب کیا تو مار پڑے گی.
کہنے کو تو چھوٹا سا واقعہ ہے پر بات کتنی گہری ہے ، کہ بعد میں سزا دینے کا کیا فائدہ جیسے لاہور کے دھماکوں یا کہیں بھی جب کوئی کام ہوجاتا ہے تو اس کے بعد سی سی ٹی وی کی ویڈیوز جاری کر دی جاتی ہیں کہ جی ہم نے خود کش حملہ آور کا چہرہ پہچان لیا. بھائی جی اس اللہ کے بندے نے تو پہلے ہی اپنے آپ کو ختم کر لیا تم پہچان بھی گئے تو کرو گے کیا ؟ فائدہ تو تب ہوتا کہ پہلے ہی ان کیمروں میں دیکھ کر مشکوک حرکات کو قابو کر لیتے.
بعد میں کیا تو کیا کیا؟
سانپ گزر گیا اور لکیر کو پیٹ پیٹ کر اپنی ایفی شنسیاں دکھاتے رہو. یہ تو پتہ چل جاتا ہے کہ کتنے دہشت گرد داخل ہوئے پر ان کو روک نہیں سکتے اور سوچ کے ہی شُو شُو نکل جاتا ہے کہ اگر کوئی دہشت گرد سامنے آگیا تو ان کا مٹکا ہی نہ پھوڑ دے.
ہائے شرماؤں، کس کس کو بتاؤں ایسے کیسے میں چھپاؤں سب سے اپنی پریم کہانیاں…….
نہیں جی یہ میری کوئی پریم کہانی نہیں ہے ، میں نے شروع میں جوجملہ لکھا ہے دراصل ایک ہندی گانے سے لیا گیا ہے کافی پرانا گانا ہے شائد آپ لوگوں نے سنا ہوا ہو خاص طور سے بزرگ بلاگرز جیسے ڈفر….. اس گانے اور میری کہانی میں صرف ایک چیز کامن ہے وہ صرف شرم والی بات ہے پر اب یہ کہانی یہاں لکھنے کے بعد وہ بھی ختم ہو جائے گی.
خیر کہانی کچھ یوں ہے بلکہ کہانی کیا دو مختلف پر ایک ہی نسل کے واقعات ہیں تو پہلا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک رات میں اصغر مال چوک جو کہ مری روڈ کی طرف ہے سے گزر رہا تھا رات کافی ہوچکی تھی کوئی ایک ڈیڑھ کا ٹائم ہوگا میں چوک میں کھڑا ہوگیا کہ کوئی ٹیکسی یا رکشہ مل جائے عید کا دن تھا میں اپنے رشتے دار کے گھر سے واپس آرہا تھا اس لئے بنا ٹھنا بھی تھا، خیر میں وہاں کھڑا ہوگیا ٹیکسی رکشہ کیا ملنا تھا ایک گاڑی رکی اور اس میں ایک عدد بندہ بیٹھا تھا اس نے شیشہ نیچے کیا اور پوچھا چلتا کیا؟ پہلے تو مجھے بات کچھ سمجھ نہیں آئی اور میں نے کہہ دیا مجھے نہیں جانا میں نے سوچا اب اس ٹائم لفٹ لینا مناسب نہیں . وہ چلا گیا تھوڑی دیر بعد ایک اور گاڑی رکی شیشہ نیچے ہوا اس میں بھی ایک بندہ تھا جب اس نے بھی وہ ہی سوال کیا تو مجھے فوراً سمجھ آگیا کہ اس کا مطلب کیا ہے میں نے غصے سے اسے کہا نہیں اور پیدل ہی جانا مناسب سمجھا. بعد میں معلوم ہوا کہ دراصل وہ ٹیکسی اور رکشوں کا سٹاپ تھا جہاں یہ لوگ رات کو بن ٹھن کے کھڑے ہوتے ہیں اور گاہگ گھیرتے ہیں. شکر ہے میری جان بچ گئی.
دوسرا واقعہ آج دن کا ہے میں مری روڈ پر پیٹرول پمپ کے باہر بلا صاحب کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک گاڑی رکی اور اس نے مجھے اشارہ کیا میں نے سوچا کہ راستہ پوچھ رہا ہے میں تھوڑا آگے ہوا اور اس سے پوچھا کیا تو اس نے پوچھا چلتا کیا؟؟؟؟؟
میں نے کہا نہیں وہ چلا گیا اور جاتے ہوئے اس کی گاڑی کے پچھلے شیشے پر میں نے لکھا دیکھا “خان ون” اور میں سمجھ گیا کہ مسئلہ کیا ہے……….اس واقعے سے پہلے میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی سوائے اپنے دو دوستوں کے ، پر آج جب دوبارہ میرے ساتھ یہ ہوا تو میں نے سوچا کے شرمانے کی کیا بات ہے بتاؤ سب کو کیونکہ اگر کسی بندے کو “چلتا کیا” کا مطلب نہیں پتا تو وہ کہیں اس مصیبت میں نہ پڑ جائے. آپ لوگ بھی دھیان رکھنا.
ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف زرداری کی بے وفائی یا جان چھڑائی کے بارے میں کچھ کہہ رہا ہے
یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے، کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں
اک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں
او وفا کہتے ہوئے تجھ کو تو شرماتا ہوں میں
بے وفا کہتے ہوئے تجھ کو تو شرماتا ہوں میں
آرزؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
جب بہار آئی گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں
حشر میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
اپنا غم دل کی زباں میں، دل کو سمجھاتا ہوں میں
آغا حشر کاشمیری