یوم بچپن بلوبلا

چونکہ ہم دو ہیں اور ہمارا بچپن ایک ساتھ نہیں گزرا اس لئے ہمارے بچپن کے واقعات بھی الگ الگ ہیں پہلے میں لکھ دیتا ہوں پھر بلا صاحب بھی اپنا کوئی واقعہ لکھ دیں گے۔
یوم بچپن : بلوُ
جی تو میرا ایک واقعہ ہے جو میرے بھائی کو حوالے سے ہے ہوا کچھ یوں کہ ہمارے محلے میں‌ایک فیملی رہتی تھی ان کے ہاں زیادہ تر خواتین ہی تھیں ، خیر ان میں سے ایک لڑکی میرے بھائی صاحب کو بہت پسند تھی جس کا علمٍ تقریباً ہم سارے گھر والوں کو تھا ۔ خیر ہوا یہ کو وہ لڑکی ایک دن ہمارے گھر آئی اس وقت ہم بچے بیٹھک میں کھیل رہے تھے اس نے باجی کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کے اندر کمرے میں چلی جائیں پر وہ کمرے میں نہیں گئی اور واپس چلی گئی میں دوبارہ کھیل میں مصروف ہو گیا ، کچھ دیر بعد میں کھیل سے فارغ ہو کر کمرے میں گیا تو میں نے دیکھا کہ بھائی صاحب ہیٹر کے سامنے بڑے معزز بنے بیٹھے ہیں چونکہ اس وقت بھی لوڈ‌شیڈنگ ہوا کرتی تھی اس لئے میں یہ نہیں دیکھ پایا کہ کمرے میں اور کون کون بیٹھا ہے اور بھائی صاحب اس لئے نظر آگئے کہ وہ ہیٹر کے سامنے بیٹھے تھے اور اس کی روشنی کی وجہ سے دکھائی دیے خیر میں نے انہیں دیکھتے ہی لہکتے ہوئے کہا ” بھائی صاحب مسرت آئی تھی” اور اچانک لائٹ آگئی ، جیسے ہی لائٹ‌آئی تو میں نے دیکھا کہ وہ لڑکی بھی اس کمرے میں باجی اور امی کے ساتھ ‌موجود ہے اور میری بات سنتے ہی اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اور میرے پیروں سے زمین نکل گئی کہ اب کیا ہوگا میرے پاس بہت اچھا موقع تھا کہ میں ابھی دروازے پہ ہی کھڑا تھا چاہتا تو واپس باہر بھاگ جاتا پر میں ڈر اور شرمندگی کے مارے امی کے پیچھے جا کر چھپ گیا اور سر نیچے کر کے لیٹا رہا ، تھوڑی دیر بعد میری امی نے خود سے بات بنا کر کہا کہ بلو کہہ رہا ہے کہ مسرت باجی سے کہو کے مجھے معاف کردیں تو اس نے کہا کوئی بات نہیں اور وہ چلی گئی۔
اس کے جاتے ہی بھائی صاحب نے مجھے گود میں اٹھا کر پیار کرنا شروع کر دیا اور خوشی سے پاگل ہی ہو گئے ۔ میں آج تک یہ سوچتا ہوں کہ اس میں اتنی خوش ہونے والی کیا بات تھی؟؟؟؟

اگر یہ واقعہ آپ کو اچھا نہیں لگا تو بتا دیں میں‌کوئی اور واقعہ سنا دیتا ہوں ۔

تبصرے 16

کنفیوز کامیAugust 16th, 2009 at 3:21 am

کوئی اور سنا یار اے واقعہ اے چھڈ اوے :cool:
.-= کنفیوز کامی´s last blog ..۔۔ شرارت ۔۔ ہفتہ بلاگستان =-.

بلوAugust 16th, 2009 at 3:31 am

اچھا جی کامی صاحب :cry:

یاسر عمران مرزاAugust 16th, 2009 at 4:06 am

ھا ھا ھا ھا
بڑا زبردست واقعہ ہے جی، مزے دار بھی
بہت شکریہ بانٹنے کا
اپنی یادیں
ساڈے نال

DuFFeR - ڈفرAugust 16th, 2009 at 5:54 am

ہاں یار کوئی دوسرا سنا اس کی تو سمجھ ہی نہیں آئی :mrgreen:
فورا سے پہلے لکھ دے ورنہ اس پوسٹ کا تائم آج ایکسپائر ہو جائے گا

میرا پاکستانAugust 16th, 2009 at 6:53 am

واقعہ تو انعام یافتہ ہے مگر آخر میں یہ کہ کے آپ نے شک میں‌ڈال دیا کہ شاید یہ گھڑا گیا ہے اور اگر پسند نہیں تو آپ ایک اور گھڑ دیتے ہیں۔

بلاAugust 16th, 2009 at 7:29 am

میرا پاکستان صاحب اس میں کہیں کوئی گھڑنے والی بات نہیں‌کہی گئی

جعفرAugust 16th, 2009 at 12:15 pm

مجھے واقعہ سے زیادہ مسرت او آپ کے بھائی جان کی کہانی میں دلچسپی ہے
پھر کیا ہوا ن کا
ملے یا پھر طالم زمانہ ۔۔۔

راشد کامرانAugust 16th, 2009 at 1:57 pm

بچپن تو بچپن ہوتا ہے نہ جناب۔۔ پھر لائٹ بھی نہیں تھی اس لیے بھائی نے سوچا ہوگا چلو بچہ ہے :grin:
آپ بھائی کی جگہ ہوتے تو بلو صاحب کے ساتھ کیا کرتے ؟

جعفرAugust 17th, 2009 at 2:28 am

میری دلچسپی واقعہ کی بجائے مسرت اور آپ کے بھائی جان میں ہے
ان کا کیا بنا
ہیپی اینڈنگ
یا
ظالم زمانہ

بلوAugust 18th, 2009 at 2:53 am

ظالم زمانہ مسرت کی شادی ہو گئی اور بھائی ملک سے باہر چلے گئے
:roll:

جعفرAugust 18th, 2009 at 6:04 am

اگر چہ کچھ لیٹ ہے، پھر بھی اپنے بھائی جان سے میری طرف سے تعزیت کرلیجئے گا
اور اگر مسرت ابھی بھی ملتی ہوں تو ان کے بچوں کو اپنے بھائی جان کے سامنے مت لائیے گا کیونکہ وہ لازمی طور پر انہیں ماموں جان کہیں گے جس سے ان کے جذبات سخت مجروح ہونے کا خدشہ ہے۔۔۔۔
:cry:
.-= جعفر´s last blog ..نظام تعلیم – دے دھنا دھن (ہفتہء بلاگستان -2) =-.

اسماءAugust 18th, 2009 at 8:27 am

بڑا مزے کا واقعہ ہے شکر کرو مسرت ہميشہ کے ليے نہيں آ گئی نہيں تو جو بھائی جان اسوقت پيار کر رہے تھے آپکو اب پٹائی لگا رہے ہوتے کہ اسی نے راز اگلا تھا تو يہ بلا ميرے سر پڑ گئی

اسماءAugust 18th, 2009 at 8:30 am

جعفر سے پوچھيں اس تکليف کا احساس جو ُانکے` بچوں کے ماموں کہنے سے ہوتی ہے بھائی اب باہر چلے گئے ہيں تو فکر کی ضرورت ہی نہيں وہاں مسرت ہی مسرت ہو گی :lol:

بلوُAugust 19th, 2009 at 1:42 am

بھائی باہر نہیں بھی جاتے تو بھی ملاقات مشکل تھی کیونکہ پہلے ہم نے وہ شہر چھوڑا تھا پھر بھائی نے ملک چھوڑ دیا

جعفرAugust 19th, 2009 at 2:03 am

ڈھیٹوں کو کوئی تکلیف نہیں‌ہوتی
بالکل وہ تو ان بچوں کو بالکل ”اپنے“ بچے سمجھ کے پیار کرتے ہیں
:mrgreen:
.-= جعفر´s last blog ..نظام تعلیم – دے دھنا دھن (ہفتہء بلاگستان -2) =-.

[...] یوم بچپن از بلو [...]

تبصرہ کریں

Your comment



Spam protection by WP Captcha-Free