شرافت کا معیار
ہمارے بہت ہی پیارے، معزز اور امیر دوست کی عورتوں کے بارے میں رائے کوئی خاص اچھی نہیں شاید اس کی وجہ ”ان کے مطابق” یہ ہے کہ ان کو کئی بار مختلف اوقات میں عورتوں سے دھوکے ملے۔ پر ہمیں تو ہمیشہ ان کی باتوں سے یہی لگا کہ موصوف خود بھی کچھ کم نہیں۔ خیر ان کے خیال میں ہر وہ لڑکی جو کسی تفریح مقام پریا پھر کسی لڑکے کے ساتھ گھومتی پھرتی یا باتیں کرتی ہوئی نظر آجائے یا جینز پہنے اس کا کردار مشکوک ہوتا ہے ۔ مشکوک تو چھوڑیں وہ تو اس کو ــــــــــــــ ہونے کا خطاب دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اور دوسروں کو بھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ بھی ان کا ساتھ دیں اور غلطی سے اگر کوئی ان کو اس بات پر ٹوک دے تو جو کچھ اسے سننا پڑتا ہے وہ میں یہاں نہیں لکھ سکتا سوائے اس کے کہ
”تو بڑا آیا عورتوں کے حقوق کا علمبردار”
کہتے ہیں کہ جو لڑکی اتنی آزادی سے کسی لڑکے کے ساتھ گھوم پھر سکتی ہے وہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے اور ثبوت کے طور پر کئی بار پارکوں میں بیٹھے لڑکا لڑکی دکھاتے ہیں کہ دیکھو عورتوں کے حقوق کے علمبردار دیکھو کیا ہورہا ہے۔ جبکہ خود کو بھی یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کا آپس میں رشتہ کیا ہے۔ یہ ضروری تو نہیں کہ ڈیٹ ہی ہو۔ میاں بیوی بھی تو ہو سکتے ہیں۔
سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ جناب کی ایک عدد گرل فرینڈ ہیں جو کہ ان کے ساتھ کبھی مری تو کبھی پیر سوہاوہ اور نہ جانے کہاں کہاں گھومتی پھرتی ہیں اور اکثراوقات تو ان کے آفس میں بھی آجاتی ہیں کہ چلو سارے کام چھوڑو اور میرے ساتھ گھومنے چلو۔ جینز ٹی شرٹ بھی پہنتی ہیں ۔ ویسے ہمیں ان کے جینز پہننے پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی ہمیں ان کا اس طرح ایک ساتھ گھومنا پھرنا برا لگتا ہے۔ بری لگتی ہے تو بس ایک بات کہ ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں کہ وہ بہت شریف لڑکی ہے ۔ چلیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں کرتے لیکن سوال تو یہ ہے کہ اگر شرافت کا یہی معیار ہے تو پھر باقی لڑکیاں شریف کیوں نہیں اور صرف ان کی دوست صاحبہ ہی کیوں سب سے شریف ہیں؟؟؟؟
بلوُ




معزز؟؟؟؟؟
ایسا بندہ معزز کیسے ہوسکتاہے؟؟؟
دوسرے لوگ ہمارا آئینہ ہوتے ہیں۔۔۔
اور ہم جو ہیں ہمیں وہی عکس ان میں نظر آتا ہے۔۔۔۔
ان صاحب کو تھانہ آبپارہ میں دو تین پانجے فٹ کروائیں۔۔۔
انشاءاللہ ہر عورت انہیں شریف اور معزز نظر آنے لگے گی۔۔۔
شرافت کا معیار یہ ہے کہ جو میں نے کیا وہ ٹھیک اور اس کا جواب بھی میرے پاس ہے اور جو دوسروں نے کیا غلط اور اس کا جواب بھی میرے پاس موجود ہے۔ یہی ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور شاید اسے ہی دوغلہ پن کہتے ہیں جو عالمی سپرپاور نے متعارف کرایا ہوا ہے۔
میرا پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر میرا وطن ڈاٹ انفو
منافقت تو ہماری زندگی کے ہر رویے میں در آئی ہے انفرادی سے لیکر اجتماعی سطح تک اور فرد سے لیکر حکومتوں تک اور اسکی ایک اچھی مثال آپ نے بیان کی ہے، اور یہ منافقت کہیں باہر سے تو تھوپی نہیں گئی ہمارا اپنا آپ اور اپنا رویہ ہے اور درست بھی اپنے آپ سے ہی ہوگا۔ کاش ایسا ہو۔
محمد وارث کے بلاگ سے آخری تحریر مہربان
میرا پاکستان کے تبصرے میں آپکے امیر دوست کا تعلق عالمی پاور سے سمجھ نہیںآیا
میرا پاکستان صاحب فیصل صاحب کی بات کا جواب دیں
وہ کہتے ہیں نا عادت سے مجبور تو آپ بھی انہیں معاف کردیں عادت سے مجبور سمجھ کر
دوست ہے اور پیارا اور معزز بھی
کیا اس کو بھی یہ پوسٹ پڑھوائی ہے؟
اگر نہیں تو
اس کی چغلی کر کے آپ نے بھی تو بڑا مہان کام کیا ہے
جہاں تک عنوان پر تبصرے کی بات ہے تو
”اپنی اپنی سوچ ہے، کسی کو کم جہالت کا تڑکا لگا ہوا ہے کسی کو زیادہ“