دل ٹوٹ گیا منحوس کا

بہت سال پہلے کی بات ہے میں‌‌ ایک شادی کی تقریب میں‌شرکت کے لئے کراچی گیا ہوا تھا ۔ میرا آدھے سےزیادہ خاندان کراچی میں‌آباد ہے۔ خیر ہم جس گھر میں‌ ٹہرے تھے وہ میری پھوپھی کا ہے، ان کے گھر کی بالائی منزل پر کرایہ دار تھے چھوٹی سی فیملی تھی ان کی دو میاں‌بیوی ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔

اوپر والوں‌ کی لڑکی کو شائد کوئی کام کاج نہیں‌تھا وہ تو بس ہر وقت نیچے ہی رہتی تھی اور ہر ممکن کوشش کرتی تھی مجھے تنگ کرنے کی لیکن مجھے تو وہ بہت بری لگتی تھی اور اسی طرح تمام نیچے والوں‌کو بھی ۔وہ ہر وقت اسی فکر میں‌رہتی تھی کہ سب کے بارے میں‌اس کو خبریں‌ملتی رہیں‌۔ میری بھانجی بھی میرے ساتھ تھی اور وہ مجھے بلوُ ماموں‌ کہہ کر بلاتی تھی تو اس لڑکی نے بھی مجھے اسی نام سے پکارنا شروع کر دیا جس پر میرے گھر والوں‌کو فکر ہوئی کہ یہ اتنی فری کیوں ہو رہی ہے؟ پر میرے اچھے ریکارڈ کی وجہ سے ان لوگوں‌نے اس پر کچھ زیادہ دھیان نہیں‌دیا۔ لیکن میری ایک کزن جو اسے شروع سے ہی نا پسند کرتی تھی اس نے کچھ اور ہی سوچا ہوا تھا خیر دن گزرتے گئے ، شادی بھی ہو گئی اور وقت آیا ہماری واپسی کا، واپس آنے سے ایک دن پہلے میری کزن میرے پاس آئی اوراس نے مجھے اسکے اور اپنے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں‌بتایا وہ کچھ یوں‌تھی
لڑکی– بلوُ ماموں‌کہاں‌ہیں ؟
کزن– وہ نہیں‌ہیں‌گھر پر
لڑکی — کب آئیں گے؟
کزن — کیوں؟
لڑکی — ویسے ہی پوچھ رہی ہوں
کزن — تم ان سے زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کرو
لڑکی — کیوں میں‌نے کیا کِیا ہے؟
کزن — بس میں‌جو کہہ رہی ہوں ، اور ویسے بھی تم اپنی شکل دیکھو وہ تم جیسی لڑکی کو پسند نہیں‌کرتے، ان کی منگنی ہوچکی ہےاور ان کی منگیتر بہت خوبصورت بھی ہے اور وہ روز اپنی منگیتر سے فون پر بات بھی کرتے ہیں۔۔۔۔
لڑکی بس چپ ہو کر چلی گئی

اس کے بعد میری کزن نے مجھے آکر ہنستے ہوئےمجھے سارا قصہ سنایا تو میں نے اس سے کہا کہ میری منگنی کب ہوئی اور میں‌فون پر کس سے باتیں‌کرتا ہوں‌تو میری کزن نے کہا کہ بلوُ بھائی آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں‌وہ کونسا آپ کی منگیتر سے ملنا چاہتی ہے مجھے تو بس آپ کی جان چھڑانی تھی اس سے اور کچھ نہیں‌کیونکہ مجھے وہ زہر لگتی ہے آپ سے ایسے ہی فری ہونے کی کوشش کرتی رہتی ہے میں نے بھی اس کو جب یہ بات بتائی تو دل ٹوٹ گیا منحوس کااور میں‌ہنستی ہوئی واپس آگئی اب وہ آپ کو تنگ نہیں کرے گی۔
پھر میں‌نے سوچا کہ میری کزن کو مجھ سے ہمدردی کم اور اس لڑکی پر غصہ زیادہ تھا اور اس کو بہانہ مل گیا اپنا غصہ نکالنے کا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

تبصرے 10

حجابFebruary 25th, 2009 at 12:12 pm

:roll: لو یہ کیا بات ہوئی ،، میں تو سمجھ رہی تھی کہ آخر میں آپ لکھیں گے کہ اُسی تنگ کرنے والی لڑکی سے جو آپ کو بری لگتی تھی اب اُس سے آپ کی شادی ہوگئی :razz:

عمار ابنِ ضیاءFebruary 25th, 2009 at 12:17 pm

اس لڑکی کو دلچسپی ہو یا نہ ہو، آپ کی کزن کو غصہ ہو یا نہ ہو، آپ کو ضرور کچھ ہمدردی ہوگئی تھی۔۔۔ اپن کا تو یہی خیال ہے۔ :razz:

انکل ٹامFebruary 25th, 2009 at 12:18 pm

میرا خیال ہے کہ آپ کی کزن اس لڑکی سے کوی پرانی دشمنی کا بدلہ اتارنا چاہ رہی تھی اور میرا نہیں‌خیال کہ وہ لڑکی کسی “مسافر” میں‌ اپنا ٹایم ضایع کرے گی :lol:

انکل ٹام’s last blog post..Ik Zindagi Ka Afsana

ڈفرFebruary 25th, 2009 at 1:04 pm

کیوں جی بلو جی؟
پوری بات بتاؤ کیا ماجرا تھا
کیا گل کھلانے کی کوشش کی تھی تم نے؟
یا گلستان کی بنیاد ہی رکھ دی تھی؟
اتنے شریف لگتے نہیں‌تم جتنا پورٹرے کر رہے ہو
دل نہیں توڑنا چاہئے پاویں کسی منحوس کا ہی ہو
بتھا پن دینا چاہئے :mrgreen:

جعفرFebruary 26th, 2009 at 2:19 am

سب سے پہلے تو میرے بلاگ پر آنے اور کمنٹنے کا شکریہ۔۔۔ اور بلو جی میں‌نے تو آج تک کوئی لڑکی ایسی نہیں‌دیکھی جو اپنے متوقع محبوب کو ماموں‌کہتی ہو :mrgreen:
اور واہ ڈفر صاحب کیا مشورہ دیا ہے۔۔۔ اس پر یہی کہ سکتا ہوں کہ “گل تے سُٹّن والی نئیں پر تھاڈے سُٹّن والیاں نیں” :lol:

ڈفرستانFebruary 26th, 2009 at 6:24 am

شکریہ :D ۔

فیصلFebruary 26th, 2009 at 10:17 am

کیا مطلب ہے آپکا؟ ایک تو آپکی کزن نے آپکے ساتھ ہمدردی کی، الٹا آپ نے اسی پر شک کر لیا؟ :shock:

فیصل’s last blog post..اردو بلاگ انگریزی بلاگ

بلوُFebruary 27th, 2009 at 6:09 am

حجاب جی بلاگ پر خوش آمدید
یہ کوئی ڈرامہ تھوڑی ہے جس میں‌ اسی لڑکی سے شادی ہونا ضروری ہوتا ہے

عمار ابنِ ضیاء صاحب مجھے اس سے کوئی ہمدردی نہیں‌ تھی

انکل ٹام بلاگ پر خوش آمدید
آپکا خیال ٹھیک بھی ہو ساکتا ہے

ڈفر صاحب پوری بات یہی تھی اس کے بعد میں‌ واپس پنڈی آگیا تھا اور اپنی شرافت بھی اپنے ساتھ لے کر آیا تھا

جعفر صاحب بلاگ پر خوش آمدید
آُ نے ایسی لڑکی نہیں‌دیکھی پر میں‌دیکھ چکا ہوں

فیصل صاحب میں‌اس پر شک نہیں‌ کر رہا مجھے یقین ہے :wink:

عبدالقدوسMarch 7th, 2009 at 12:57 pm

ہائے ظالم ایک دکھ کے باغ میں ایک اور اداس پنچھی چھوڑ دیا :lol:

بلوُMarch 8th, 2009 at 4:25 am

عبدالقدوس صاحب میں نے تو کچھ نہیں‌ کیا :oops:

تبصرہ کریں

Your comment



Spam protection by WP Captcha-Free