!!!ایہہ پتر
پرسوں بولتا پاکستان دیکھا۔اب ذرا کم کم ہی دیکھتا ہوں لیکن پرسوں رات گھر میں داخل ہوا تو ابو ٹی وی کے ساتھ جڑے بیٹھے تھے۔ ماحول کی سنجیدگی دیکھتے ہوئے میں بھی وہیں کھڑا ہو گیا۔ نصرت جاوید اور مشتاق منہاس دونوں خلافِ معمول غصے میں نظر آ رہے تھے۔ کچھ دیر میں پتہ چلا کہ پچھلے سال بھکر میں ہونے والے ایک واقعے کی پولیس کے ایک انسپکٹر نے تفتیش کرتے ہوئے ہولناک انکشافات کئے ہیں۔
انسپکٹر صاحب کا چہرہ نہ دکھاتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال بھکر میں ایک سیاسی رہنما کے ڈیرے پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں جس میں 30 لوگ جاں بحق ہو گئے تھے۔ابتدائی طور پر اس کیس کو شیعہ سُنی تنازعہ قرار دے دیا گیا تھا لیکن پولیس کی خفیہ چھان بین کے نتیجے میں کچھ اور ہی حقائق سامنے آئے۔ دراصل یہ دو پارٹیوں کے درمیان پیسوں کے لین دین کا معاملہ تھا۔ رقم شاید ڈیڑھ کروڑ روپے کی تھی۔ جس پارٹی نے رقم دینی تھی اس نے بجائے اتنی زیادہ رقم دینے کے ایک عدد خود کش بمبار خرید لیا۔ آپ شاید حیران ہوں کہ خرید کیسے لیا ۔ میں بھی بہت حیران ہوا تھا۔ لیکن پتہ چلا کہ وزیرستان اور فاٹا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو خود کش بمباروں کی باقاعدہ سیل لگاتےہیں۔ مذکورہ پروگرام میں یہ بات بھی بتائی گئی کہ یہ لوگ باقاعدہ اشتہار بھی دیتے ہیں۔ اس خود کش بمبار کو پتہ نہیں کیا کہہ کر لایا گیا ہو گا ۔ جب سے یہ پروگرام دیکھا ہے پریشانی، دکھ، حیرت، بے بسی اور شرمندگی میں غوطے کھا رہا ہوں۔ کیا ہم میں اب بھی کوئی اخلاقی قدر باقی رہ گئی ہے؟ زمانہ قبل از مسیح کے گلیڈی ایٹرز کی طرح ہم بھی اب انسان پالتے ہیں اور پھر ان کو دوسروں کو مارنے کے لئے خریدتے اور بیچتے ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ بیوپاری بھی پیر پرویز مشرف سے بیعت شدہ ہے اور ا س کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بچے بیچ رہا ہے۔ اُس نے تو پانچ پانچ ہزار ڈالر لئے تھے اس نے مقامی کرنسی میں صرف دس لاکھ روپے ریٹ رکھا ہوا ہے۔ اب یہ پتا نہیں کہ یہ ریٹ فکس ہے یا اس میں مول تول کی بھی کوئی گنجائش ہے۔ دشمن دار لوگوں کو اب محفل بازی سے توبہ کر لینی چاہئے۔ کیا پتہ مخالف خود کش بمبار خرید کے تحفے کے طور پر بھیج دیں۔ بعد میں کس نے پہچاننا ہے کہ بمبار کون تھا اور بم شدہ کون۔ قاتل کون تھا اور مقتول کون۔ ویسے بھی ہمارے تفتیشی ادارے جائے وقوعہ سے ملنے والے کسی بھی ایسے سر کو خودکش حملہ آور کا سر قرار دے دیتے ہیں جو مکمل حالت میں ہو چاہے وہ سر اس بندے کا ہی کیوں نہ ہو جس پر حملہ کیا گیا ہو۔ میرا خیال ہے کہ اس کیس میں جس انسپکٹر نے تفتیش کی ہے وہ پاکستان کی پولیس سے تعلق نہیں رکھتا ۔ اور اگر رکھتا ہے تو میں اسے سلام پیش کرتا ہوں کہ اس نے نہ صرف اس کیس کو سلجھایا ہے بلکہ جرم کی ایک نئی صنف کو بے نقاب کیا ہے۔
میں جب یہ پروگرام دیکھ رہا تھا تو میرے ذہن میں صوفی غلام مصطفٰی تبسم کا لکھا ہوا اورنورجہاں کا گایا ہوا یہ نغمہ گونج رہا تھا کہ
ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
کی لبھدی پھریں بزار کُڑے
عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ شاید وہ زمانے گزر گئے جب پتر بکاؤ مال نہیں تھے اب تو
ایہہ پتر ہٹاں تے وِک گئے نیں
انہاں مل گئے نیں خریدار کُڑے
جہیڑا سودا نقد وی نئیں سی ملدا
ہنڑ ملدا پیا اے اُدھار کُڑے
جیہڑے دَین سن میرے داتا دی
اج وِک گئے وِچ بزار کُڑے
جنہاں علم دے ڈیوے بالنے سن
اج بنڑ گئے نے بمبار کُڑے
جنہاں تکیا سی خواب شہادت دا
کتھے ہو نہ گئے ہوون مرادر کُڑے
انہاں پتراں دا درد میں کس نوں آکھاں
نہ ملدا کوئی غمخوار کُڑے
فقط
بلا




بہت خوب بہت ہی خوب
یہ خبر ڈان میں کافی عرصہ پہلے چھپ چکی ہے۔ میں نے خود ہندوستانی سائٹ سی این این آئی بی این پر پڑھی تھی۔
معصوم بچے جنہوں نے سکول مدرسہ کسی کا اگا پچھا نہ دیکھا ہو، انہیں بہکا کر ایسے کام کروائے جاتےہیں۔ اللہ غارت کرے ایسے لوگوں کو۔
ساجداقبال’s last blog post..Miro: Internet TV and Podcast palyer
کتنی شرمناک بات ہے کہ ہمارا میڈیا اس معاملے پر کوئی خاص کام نہیں کر رہا۔ آج عوام کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔
اللہ اپنا کرم کرے غُربت بہت بُری بلا ہے ۔ ایک نوجوان جب اپنے والدین یا بیوہ ماں اور بہن بھائیوں کو بلکتے دیکھتا ہے تو اپنے آپ کو بیچنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ یہ جوان قبائلی علاقہ جس میں وزیرستان بھی شامل کا ہے وہاں کے رہنے والے ہوں ۔ دُور کیوں جاتے ہیں بڑے بڑے شہروں میں ایسے بچے نظر آتے ہیں جو اپنے کُنبے کیلئے صرف چند لاکھ کی خاطر مرنے کو تیار ہوتے ہیں ۔1994ء کے دوران میں ایک انکوئری کر رہا تھا جس میں ایک 14 سالہ لڑکے کا بھی بیان لینا تھا ۔ میں نے اپنے ماتحت ایک منیجر کو کہا کہ لڑکا مجھ سے ڈر کر شاید بیان نہ دے اس لئے آپ ٹیپ ریکارڈ رکھ کر اُس سے سوال جواب کر لیں ۔ میں نے جب وہ بیان سُنا تو تڑپ کر رہ گیا ۔ وہ لڑکا اپنی بیوہ ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے محنت مزدوری کرتا تھا ۔ لوگ اُسے مزدوری کے بہانے لے جاتے اور اُس کے ساتھ بد فعلی کر کے اسے دس بیس روپے دے دیتے ۔ ایک شخص نے کچھ بھی نہ دیا ۔اس دن اس کے گھر والوں نے کچھ نہ کھایا تھا اسلئے اس نے شور مچایا تو اس شخص نے اسے زد و کوب کیا اور اس کا سر پھٹ گیا ۔ میرے منیجر نے اس لڑکے کو کہا کہ تم بدفعلی کیوں کرتے ہو ؟ تو اس نے جواب دیا مجھے کوئی مزدوری نہیں دیتا تو میں کیا کروں میری ماں اور چھوٹے بہن بھائی بھوکے مر جائیں گے ۔
افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..حقائق جاں گُداز ہیں یا رب ۔ بڑھا دے حوصلہ میرا
افتخار صاحب اس صورتحال پر اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ
حقائق جاں گداز ہیں یا رب
بڑھا دے حوصلہ میرا
خوش آمدید اظہار الحق صاحب
ویسے بھی قبائیلی کبھی پاکستانی فوج کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں تو کبھی امریکی فوج کے ہاتھوں اور کبھی طالبان کے نشانوں کی زد میں بھی آجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں غم وغصہ بھرا ہوتا ہے اور وہ اپنے خاندان کے اس نقصان کا بدلہ ہر صورت لینا چاہتے ہیں اس لیے انھیں بہلا پھسلا کر ایسے مقاصد باآسانی حاصل کرلیے جاتے ہیں۔
میں شکاری کی بات سے 100 فیصد متفق ہوں۔
اظہرالحق صاحب معافی چاہتا ہوں بلا نے غلطی سے آپ کا نام اظہار لکھ دیا
بلوُ’s last blog post..!!!ایہہ پتر
بہت عمدہ بلا جی
کیا بات ہے آپکی اس پوسٹ کی
اور اس میڈیا کے کیا کہنے اور اس سے شکائت کیسی
ہمارا میڈیا ہمارا میڈیا ہے ہی نہیں
بالکل ویسے جیسے ہمارے حکمران ہمارے حکمران نہیں
اور ہمارے فوج ہماری فوج نہیں
ماشاء اللہ ڈفر کیا خوب تبصرہ کیا ہے
جو بات میں اتنی لمبی پوسٹ میں نہیں کہہ سکا وہ تم نے جند فقروں میں کتنی خوبی سے بیان کر دی۔
واہ۔
لگے رہو۔
بلا’s last blog post..!!!ایہہ پتر
اللہ معاف کرے۔۔۔۔
لفنگا جی بلاگ پر خوش آمدید
[...] دن پہلےمیڈم نورجہاں کا ایک مشہور ملی نغمہ چل رہا تھا ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدےکی لبھدی پھریں بزار کُڑے تو اچانک ایک لڑکے نے سوال کیا جسے میں جوں کا توں لکھ رہا [...]