ہماری زبان اور ہمارا کلچر
کل مجھے ایک گھر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جس کمرے میں میزبان نے مجھے بٹھایا اس کے ساتھ والے کمرے سے گھر والوں کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔ پہلے تو میں نے دھیان نہ دیا لیکن دھیان بے غیرت خود ہی وہاں چلا گیا۔ گھر کے سب لوگ انڈین ٹی وی چینلز کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ کیا بچے کیا بڑے مرد عورتیں سب کے سب زور و شور سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں ہی مجھے ایسا لگنے لگا کہ میں بغیر ویزے کے انڈیا پہنچ گیا ہوں اور کسی ہندو گھر میں بیٹھا ہوں۔پہلے بھی اپنے آس پاس ایسی باتیں دیکھتا سنتا رہتا تھا لیکن کل سے پہلے کبھی اس پہلو پہ غور نہیں کیا تھا کہ ہمارے لوگوں کا لب و لہجہ تک تبدیل ہو چکا ہے۔ انڈین پروگرامز کے رسیا یہ لوگ اپنے ملک میں ہونے والے واقعات سے یکسر بے خبر ہوتے ہیں۔ انہیں یہ تو علم ہوتا ہے کہ ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی میں پاکستان ملوث ہے لیکن پاکستان میں کیا ہو رہا ہے اور دہشت گردی پاکستانی معاشرے کو کیسے چاٹ رہی ہے اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔
اندر موجود فیملی میں سے ایک بچے نے پوچھا۔”ماما! حسین ہندو ہے نا؟”
ماما نے جواب دیا۔”نو بیٹا! ہی از مسلم۔” یہ کہہ کر دوسری خاتون کو کہنے لگیں۔ “ایک تو یہ حسین بھی نا بڈھا ہی نہیں ہو رہا۔” دوسری نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پوچھا۔”آٹھواں وچن دیکھا تھا؟”
پہلی انتہائی کرب آمیز لہجے میں بولی۔”کہاں دیکھ سکی۔ لائٹ نہیں تھی۔” اور یہ کہہ کر ڈرامے کی سٹوری پوچھنے لگی۔ اب جناب دوسری خاتون نے سٹوری سنانی شروع کر دی۔ مجال ہے کہ ہندی ڈائیلاگز اور ہندی ناموں کا تلفظ ذرا سا بھی غلط ہونے دیا ہو انہوں نے۔ نام تو اکثر میرے اوپر سے گزر گئے کیونکہ آج کل اکثر انڈین ڈراموں میں تعصب کی وجہ سے ایسے ہندو نام استعمال کیے جاتے ہیں جو میرے جیسے بندے کی تو زبان پر ہی نہیں چڑھتے۔ جہاں تک ڈائیلاگز کا تعلق تھا تو وہ ایسے ہی تھے کہ:
“کیا فلاں دوسرے فلاں سے شادی کر پائے گی؟”
“کیا فلاں کا باپ فلاں کی ماں کو طلاق دے دے گا؟”
ان ڈراموں میں طلاق در طلاق اور شادی در شادی کے علاوہ ہوتاہی کیا ہے؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان میں ایسا کیا نشہ ہے۔
ابھی ڈراموں کی بات چل ہی رہی تھی کہ ایک بچی نے گانوں کے مقابلوں والے پروگرامز میں حصہ لینے والوں کے نام گنوانا شروع کر دئیے۔ میں جوں جوں سن رہا تھا حیرت سے میرا عجیب حال ہوا جا رہا تھا۔ ایسے ایسے نام بچی نے آرام سے بول دئیے جو سنسکرت کی کسی ڈکشنری میں تو مل سکتے ہیں عام ہندی میں نہیں۔
ایک دفعہ بلو نے بھی ایک ایسا ہی واقعہ سنایا تھا کہ اس کے ایک بھانجے نے جو اس وقت کافی چھوٹا سا تھا اپنے دوست کو کسی بات پر کہا “یار تو میری بات کا وشواس کر میں فلاں کام کر دوں گا۔” اور یہ بات اس کے گھر والے مزے لے لے کر سب کو بتا رہے تھے۔
فرانسیسی زبان کے ایک کلاسیک افسانے کا انگریزی ترجمہ ہمارے بی ایس سی کے کورس میں شامل تھا۔نام تھا “آخری سبق” مصنف نے جس خوبصورتی سے اپنی زبان اور اپنے کلچر کی خوبیاں بیان کی ہیں اور ان سے بچھڑنے کی جس غمناک انداز میں تصویر کشی کی ہے اس کا احساس مجھے اس وقت تو نہیں ہوتا تھا لیکن آج ضرور ہوتا ہے جب ہم غیر محسوس انداز میں اپنی زبان اور ثقافت سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ کل ٹی وی پر اولپرز دودھ کا ایک اشتہار دیکھا۔ عفت رحیم سٹیل کی ایک گڑوی سے دودھ انڈیل رہی ہے۔ بظاہر اس میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں لیکن میں سوچتا رہا کہ پاکستان میں تو کہیں گڑوی بطور برتن استعمال نہیں کی جاتی البتہ جھگیوں میں رہنے والے خانہ بدوشوں کی عورتیں شادی بیاہ کے موقع پر المونیم کی گڑوی بجا کر گانے گاتی ہیں اور بدھائی وصول کرتی ہیں۔ تو کیا اشتہار کے ڈائریکٹر نے صرف اپنے اشتہار کو گلیمرائز کرنے کے لئے ایک ایسی چیز اپنے اشتہار میں استعمال کی جو ہمارے معاشرے میں وہ حیثیت نہیں رکھتی جو دکھائی گئی جبکہ ہندو معاشرے میں اس برتن کو یہی مقام حاصل ہے۔
بات ساری احساس کی ہے۔ ہماری حالت یہ ہو چکی ہے کہ ہمیں احساسِ زیاں ہی نہیں ہو رہا ۔ ہم وہ چیز کھو رہے ہیں جس کی آج کی دنیا میں بطور قوم ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اور وہ چیز ہے ہمارا قومی تشخص۔ موجودہ دور میں ہم باقی دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے لیکن ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کانِ نمک میں نمک ہو جائیں۔ ہمیں ہیرا بننا ہے ۔ کیونکہ نمک کو تو زمانے کا پانی اپنے اندر حل کر لیتا ہے لیکن ہیرا چاہے کیچڑ میں بھی ہو اپنی پہچان برقرار رکھتا ہے۔
اللہ آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین
بلا




Wonderful Post, You are so right we should never forget where we come from and great example of namak and heera, lol look at the irony I am writing a reply about how one shouldnt forget their own language in angrezi
اللہ پاکستان اور اس کے کلچر کو اپنی حفظ و امان میںرکھے۔ ویسے حالات بہت برے ہیں۔
ویسے تو مجھے ٹی وی دیکھنے کا وقت کم ملتا ہے پر ایک دن اتفاقاً پاکستانی چینل اے آر وائی لگا لیا تو وہاں کوئی ڈرامہ لگا ہوا تھا جس کے حالات کسی انڈین ڈرامے سے مختلف نہ تھے۔ پچاس پچپن سال کے بزنس مین بابوں نے اپنی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں سے شادیاں کی ہوئی تھیں۔ مطلب پاکستانی ڈراموں کا بھی حال ٹھیک نہیں بھیا۔
آن لائن اخباری رپوٹر’s last blog post..Answer sheet picture of Farah Dogar
Glamsy
بلاگ پر خوش آمدید۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو اردو ٹائپ کرنے میں مسئلہ ہے اس لئے آپ نے انگریزی میں تبصرہ کیا ہے۔ بہرحال میرے خیالات سے متفق ہونے کا شکریہ۔
میرا پاکستان: میرے بھائی حالات کبھی بھی آئیڈیل نہیں ہوا کرتے۔ حالات کو اپنی مرضی کے مطابق اچھا کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر محنت کرنا پڑے گی۔
بلا’s last blog post..ہماری زبان اور ہمارا کلچر
آن لائن اخباری رپورٹر: میں نے اولپرز کے ایک اشتہار کا ذکر کیا ہے اگر دیکھنےکا اتفاق ہو تو غور کیجئے گا۔ ہندو کلچر کو ہماری قوم میں انجیکٹ کیا جا رہا ہےاور میڈیا اس سے بچاؤ کی بجائے اس کو فروغ دینے میں لگا ہوا ہے۔
بلا صاحب کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ یہ کہانی آپ کے گھر کی بھی ہے؟
آپ کے گھر میںپچھلے تیں دن سے کیبل چینلز نہیں چل رہے وجہ یہ نہیں کہ کسی کو ان میںکوئی دلچسپی نہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ کیبل والے نے غلطی سے آپ کا کنکشن کاٹ دیا ہے جس کی وجہ سے آپ کے گھر والے کافی پریشان ہیںاور انہیں سوچوں میں گم ہیںکہ
“کیا فلاں دوسرے فلاں سے شادی کر پائے گی؟”
“کیا فلاں کا باپ فلاں کی ماں کو طلاق دے دے گا؟”
اوئے بلے: چراغتلے اندھیرا
بلو مجھے تیری بات کا وشواس نہیں ہو رہا، بھگوان کی سوگند کھا کر کہہ کہ بلے کی کیبل کٹ گئی ھے۔
بلا جی آپ نے یقیناً کوئی پاپ کیا ہو گا، فوراً اس کا پرائسچت کریں، اور جا کر کیبل والے کے پیری پے جائیں اور بنتی کریں۔ امید ہے آپ کو شمع کر کے آپ کی کیبل کا دوبارہ لگن ہو جائے گا۔ جلدی کیجئے کہیں سٹار پلس کے بدائی کی راگنی اور رنویر کے لگن کا شبھ مہورت نا نکل جائے۔ اور زیادہ سسے زیادہ پنے کرنے کی کوشش کرین تاکہ آئیندہ ایسی کسی درغھٹنا سے سامنا نا ہو
درگھٹنا لکھنا تھا اوپر
بلے یار صحیح کر دے
کوئی کمنٹ صحیح نہیں کیا جائے گا جو ہے جیسا ہے بس ٹھیک ہے
پاء جی گڑوی پنجاب میں استعمال ہوتی ہے۔ پنڈوں میں۔ آپ نے کبھی نہیں دیکھی تو وہ الگ بات ہے۔
آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ میڈیا نے ہماری ثقافت کی بیڑی غرق کردی ہے۔
دوست’s last blog post..تم آؤ تو
بلو اور ڈفر: میں نے کب کہا تھا کہ میں بچا ہوا ہوں۔ میں تو خود اس بات سے انتہائی پریشان ہوں کہ میرے اپنے گھر والے جب تک یہ ڈرامے نہ دیکھ لیں انہیں چین نہیں آتا۔ مگر ابھی تک میرے گھر کا ماحول بالکل ٹھیک ہے۔
دوست: پاء جی وہی گڑوی استعمال ہوتی ہے جو اولپرز میں کی گئ ہے یا کوئی اور؟ اگر ہوتی ہے تو میری طرف سے معذرت۔
بلوُ’s last blog post..ہماری زبان اور ہمارا کلچر
اوئے بلے آج پہلی دفعہ بلاگ وزٹ کیا۔۔۔۔ یار یہ تو کمال کا ہے۔۔۔۔!!
واہ کیا بات ہے!
اویس نصیر کیانی: بلاگ پر خوش آمدید
آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے یہ بلاگ کمال کا نہیں ہے یہ تو بلو اور بلا کا ہے
ہیلو ! میں اس بلاگ یا سیائٹ پر اجنبی ہوں مہربانی کر کہ میری رہنمائی کریں
یاسر جاوید
یار ہیمیں پاکستانی کلچر کو فروغ دینا چاہئے ہم کو انڈیا کی نقل نہیں اتارنی چاہیے نہیں تو ” کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا”والا معاملہ ہو جائے گا
یاسر جاوید
یاسر جاوید : ہمارے بلاگ پر خوش آمدید
آپ کس قسم کی رہنمائی چاہتے ہیں ؟
ویسے آپ یہاں آتے جاتے رہا کریں سب سمجھ جائیں گے
بہت اچھی تحریر ہےِ۔
بہت شکریہ تہذیب جی
بلوُ’s last blog post..کہانی گھر گھر کی
“بلو مجھے تیری بات کا وشواس نہیں ہو رہا، بھگوان کی سوگند کھا کر کہہ کہ بلے کی کیبل کٹ گئی ھے۔
بلا جی آپ نے یقیناً کوئی پاپ کیا ہو گا، فوراً اس کا پرائسچت کریں، اور جا کر کیبل والے کے پیری پے جائیں اور بنتی کریں۔ امید ہے آپ کو شمع کر کے آپ کی کیبل کا دوبارہ لگن ہو جائے گا۔ جلدی کیجئے کہیں سٹار پلس کے بدائی کی راگنی اور رنویر کے لگن کا شبھ مہورت نا نکل جائے۔ اور زیادہ سسے زیادہ پنے کرنے کی کوشش کرین تاکہ آئیندہ ایسی کسی درغھٹنا سے سامنا نا ہو”
خواتین و حضرات اس کا مطلب ہے کہ ہمارے ڈفر بھیا بیت شوق سے “راگنی” والا ڈرامہ دیکھتے ہیں! ہاہاہاہہاہا
آن لائن اخباری رپوٹر’s last blog post..Institute of Public Health Punjab official website launch
یار میں تو دبی میں ہوتاہوں۔۔۔۔ اس لیے انڈین ڈراموں سے بچا ہوا ہوں۔۔ لیکن اگر لوگوں کا دل ان سے کٹہا کرنا ہے تو ان کو بغیر میک اپ انڈین عورتوں کی فوٹوز دکھا دو۔۔۔ بس سمسیا حل۔۔۔ کیوں جی ۔۔۔بلا جی!!!!
جعفر حسين صاحب بلاگ پر خوش آمدید
مسئلہ صرف میک اپ نہیں ہے سازشیں ہیںجو ان ڈراموں میں دکھائی جاتی ہیں ، ان کا کیا حل ہے؟؟
وعلیکم خوش آمدید۔۔ بلو پاء جی! اب اتنے مشکل سوال نہ پوچھو ۔۔۔۔ یار۔۔۔۔
حضرت آپ کس دنیا میں ہیں ہم مسلمان لوگ تو اپنے مذہب کا خیال نہیں کرتے آپ کلچر کی بات کر رہے ہیں آپ مجھے ایک وقت بتائیں جب ہم لوگ بغیر ڈنڈے کے جاگے ہوں؟؟؟؟ جب تک اچھی طرح ڈنڈا نہ پڑھ جاے ہم سوتے رہتے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں
تم سے کب پیار ہے ہاں نیند ہمیں پیاری ہے
میرے خیال سے پاکستان بنا کر ٹایم ہی ضایع کیا گیا ہے ایسی باتیں پڑھ کر میں مولانا ابوالکلام آزاد کے نظریے کا قایل ہو جاتا ہوں ۔۔۔۔۔ شاید اگر ہم پاکستان نہ بناتے تو انڈیا پر ہی مسلمان حکومت کر رہے ہوتے اور گجرات میں اتنے مسلمانوں کا قتل عام نہ ہوتا خیر یہ تو ایک الگ بات ہے لیکن یہ سب ہمارے دین سے دوری کا نتیجہ ہے مجھے تو یہ پڑھ کر حیرت ہوی ہے کہ بچے کو یہ ہی نہیں پتا کہ حسین مسلمان کا نام ہے ان بچوں کا مستقبل کیا ہو گا ؟؟؟؟ اس سوچنے کا مقام ہے
انکل ٹام’s last blog post..Ik Zindagi Ka Afsana
بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیںآپ انکل ٹام