بندہ مزدور کو بھی کبھی چھٹیاں ملتی ہیں؟؟؟
چھٹیوں کے موضوع پر لکھی گئی ڈفر کی پوسٹ پڑھی تو خیال آیا کہ اس دنیا میں اور خاص طور پر ہمارے وطن میں یہ کیسی بے انصافی ہے کہ جو جتنی زیادہ محنت کرتا ہے وہ اتنا ہی کم صلہ پاتا ہے ۔ چاہے وہ معاوضے کی شکل میں ہو یا چھٹیوں کی شکل میں۔
جولوگ سب سے ذلیل اور گھٹیا کام کرتے ہیں ان کی آمدنی سب سے کم ہے ۔ جو جتنا صاف ستھرا اور معزز کام کرتے ہیں ان کی آمدنی اتنی ہی زیادہ ہے اور جو کچھ نہیں کرتے ان کی آمدنی کا تو کوئی حساب ہی نہیں۔ اگر بات سمجھ میں نہ آئے تو ایک گندگی صاف کرنے والے جمعدار ، ایک سیٹھ صاحب اور ایک جاگیردار کی زندگیوں کا موازنہ کر لیجئے۔ یہ صرف مثال ہے آپ کو اس بات کی چلتی پھرتی بہت سی تصویریں معاشرے میں نظر آجائیں گی اگر آپ دیکھنا چاہیں تو۔
یہی حال چھٹیوں کا ہے ۔ ایکزیکٹیوز کے لئے ہفتے میں دو دو چھٹیاں اور دفتری اوقات بھی 9 سے 5 وہ بھی جن کی پابندی لازمی نہیں۔ اور نچلے درجے کے ملازمین کو ہفتے میں ایک چھٹی اور وہ بھی اکثر اوورٹائم کی نظر۔ اور اوقاتِ کار بھی 12 گھنٹے۔ اقبال نے معاشرے کے اسی تضاد کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
’’ہیں بندہ مزدور کے تلخ بہت اوقات‘‘
پچھلے سال 14 اگست کو ہم آؤٹنگ کے لئے نکلے تو دیکھا کہ بے تحاشہ لوگ گاڑیوں موٹر سائکلوں پر سڑکوں پر آ جا رہے تھے اور حسبِ توفیق موج مستی کررہے تھے لیکن سڑک کنارے بچھائی جانے والی پائپ لائن کی کھدائی جاری تھی اور مزدور اپنے ارد گرد کے ماحول سے بظاہر بے نیاز اپنے کام میں مصروف تھے۔ 14اگست تو ہمارا قومی دن ہے جس پر زندگی کے ہر شعبے میں چھٹی ہوتی ہے مگر مزدور اگر دیہاڑی نہیں لگائیں گے تو رات کو کھانا کیسے کھائیں گے سو وہ دیہاڑیاں لگاتے لگاتے زندگی تمام کر دیتے ہیں اور ہم جیسے بے حس لوگ اُن کے قریب سےان پر ایک نظر ڈالتے ہوئے گزرجاتے ہیں اور بعد میں دوسروں پر اپنی زبان دانی کا رعب جھاڑنے کے لئے ان کا ذکر انتہائی ہمدردی سے کرتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ ہم من حیث القوم کوئی ایسا کام کیوں شروع نہیں کرتے جس سے معاشرے میں پائی جانے والی یہ طبقاتی تقسیم ختم نہ سہی پر کم کی جا سکے۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔




میرے خیال میں مصرعے میں کچھ آگے پیچھے ہو گی اہے، دل کو نہیں لگ رہا
یہ پوسٹ میری پیاری چھٹیوں سے جل کر تو نہیں لکھی؟
آپ کے خیال میں یہ قوم من حیث القوم چغلیوں، تنقید، کرپشن اور طعنہ زنی کے علاوہ کیا کر سکتی ہے؟
بس جی کیا کہیں بات صرف یہی ہے کہ ہیں بندہ مزدور کے تلخ بہت اوقات
ویسے یہ اس قوم کو ابھی بہت کام کرنے ہیں اس لیے کم سے کم چھٹیاں ہونی چاہیے
عبدالقدوس صاحب لگتا ہے کے سارے کام ہم نے ہی کرنے ہیں کیونکہ ہماری کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔
ڈفر صاحب آپ طعنہ زنی بہت اچھی کرتے ہیں۔
بہت سوچا مگر مصرعے کی صحیح ترتیب یاد نہیں آ رہی تھی۔ سوچا کہ اس سے پہلے کہ سارا موضوع ہی ذہن سے نکل جائے ایسے ہی لکھ دیتا ہوں کوئی نہ کوئی تصحیح کر ہی دے گا
بلو شکر مناوکہ چھٹی نہیں اور ورنہ پکی چُھٹی ہوجائے گی
بس بلو جی کبھی غرور نہیں کیا
ایک دفعہ کیا تھا
جب سے روز مالش کرتا ہوں