راولپنڈی بن گیا وینس Rawalpindi or Venice

گزشتہ ادوار میں محترم شیخ رشید احمد صاحب سمیت مختلف وزراء اور سیاسی شخصیات اس بات کا دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ راولپنڈی کو پیرس بنا دیں گے۔ کچھ نہ سمجھ میں آنے والی ناگزیر وجوہات کی بناء پر پیرس کی بجائے نگاہِ انتخاب وینس پر جا ٹکی ہے۔ شاید حکمرانوں کے نزدیک وینس پیرس کی نسبت زیادہ رومانٹک شہر ہے۔ اس لئے انہوں نے راولپنڈی شہر کو پیرس کی بجائے وینس بنا دیا ہے۔ تمام سڑکوں اور گلیوں کو کھود کر پانی کھڑا ہونے کی خصوصی گنجائش پیدا کی گئی ہے ۔ جہاں جہاں ڈھلوانوں کی وجہ سے بارش کا پانی کھڑا نہیں ہوپاتا وہاں سیوریج اور واٹر سپلائی کی پائپ لائنوں کو مختلف طریقوں سے زخمی کر کے پانی کی وافر مقدار مہیا کر دی گئی ہے ۔ لیکن عوام ہیں کہ ایسے نا شکرے ہیں کہ بجائے اس رومانٹک ماحول کو انجوائے کریں گالیاں دیتے پھر رہے ہیں ۔ حالانکہ انہیں چاہیے کہ کشتیاں اور گنڈولے خریدیں اور انجوائے کرتے پھریں۔ ٹریفک کے مسئلے سے بھی نجات اور رومانس کا رومانس الگ۔
میں نے تو جوتے پالش کرنے بھی چھوڑ دئیے ہیں ۔پالش کروں یا نہ کروں ، کالے جوتے پہنوں، برائون جوتے پہنوں یا سفید سب کا رنگ ایک جیسا ہو جاتا ہے یعنی مٹیالا۔ اچھا یاد آیا ایک اور مسئلے سے بھی نجات مل گئی ہے عوام کو اور وہ ہے دھول مٹی ۔کیا خوشگوار ماحول پیدا کیا گیا ہے ۔ دل چاہتا ہے کہ جھوم جھوم جائوں اور گھوم گھوم گائوں لیکن پانی کی وجہ سے اتنی جگہ نہیں پاتا کہ اپنی یہ خواہش پوری کر سکوں ۔

راولپنڈی کو وینس بنانے کے اس عمل میں اس کے علاوہ بھی بہت سی سہولیات اور فائدے چھپے ہوئے ہوں گے لیکن یہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔ کچھ آپ بھی تو بتائیے کہ آپ کو کون کون سا فائدہ نظر آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے 8

بندہDecember 21st, 2008 at 5:49 am

لگتا ہے کہ آپ کبھی گجرات نہیں گئے

ڈفرDecember 21st, 2008 at 6:51 am

پنڈی میرا شیَر

بلوُDecember 21st, 2008 at 7:03 am

ڈفر صاحب آپ نے کوئی خاص کمنٹ نہیں دیا اس پوسٹ پر

ڈفرDecember 21st, 2008 at 9:13 am

انٹرنیٹ کی ایسی کی تیسی ہوئی وی
لکھ لکھ کے سبمٹ کا بٹن دباتا رہا اور ایرر پیج آتا رہا
آخر ایویں ایک کمنٹ دیا تو وہ سبمٹ ہو گیا :D
بلا صاحب نے بڑی عمدگی سے نقشہ کھینچا ہے پنڈی کی موجودہ حالت کا
اگر بلا صاحب کی گھوم گھوم گانے کی ویڈیو بھی اپلوڈ ہو جاتی تو دل پشوری ہو جاتی :D

ڈفرDecember 21st, 2008 at 9:14 am

ماڈریشن کیوں لگا دی بلاگ پہ؟
زیادہ ہی ٹریفک ہو گئی ہے آپ لوگوں کے بلاگ کی یا سپیمنگ حد سے بڑھ گئی ہے؟

بلوُDecember 21st, 2008 at 9:22 am

ایسا ویسا کچھ نہیں‌ ہوا ڈفر صاحب فکر نہ کریں

بلوُDecember 21st, 2008 at 9:38 am

آپ غور سے پڑھیں بلا صاحب نے کہا ہے کہ
”دل چاہتا ہے کہ جھوم جھوم جائوں اور گھوم گھوم گائوں لیکن پانی کی وجہ سے اتنی جگہ نہیں پاتا کہ اپنی یہ خواہش پوری کر سکوں ”

اسماء احسنDecember 23rd, 2008 at 12:46 am

کشتی والا خیال اچھا ہے اور بارش والے خاص جوتے بیچنے کا کاروبار بھی فا ءدہ مند ہو سکتا ہے۔

تبصرہ کریں

Your comment



Spam protection by WP Captcha-Free