شیخ رشید احمد امیدوار برائے حلقہ این اے 55 کا معافی نامہ

ممکن ہے کچھ قارئین نے عرفان صدیقی صاحب کا یہ کالم بعنوان ’’یہ معافیاں…… ‘‘ نہ پڑھا ہو. اس لئے معلوماتِ عامہ میں اضافے کے لئے یہاں تحریر کیا جا رہا ہے.

نقشِ خیال

عافیہ پہ ٹوٹتے ستم نے ایک پرانے زخم کے بخیے بھی ادھیڑ ڈالے ہیں. مجھے جامعہ حفصہ کی شہید بچیاں شدت سے یاد آ رہی ہیں اور ایک رُکنی جماعت کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ادھڑے ہوئے زخم پر مٹھی بھر نمک چھڑک دیا ہے.ووٹوں کی جستجو میں دو باریش شخصیات کو اپنے دائیں بائیں بٹھا کر انہوں نے فرمایا ’’علما ء میرے ساتھ ہیں. میں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے مقتولین پر معافی مانگ لی ہے.‘‘
ایک جملے نے حساب بے باق اور کھاتہ صاف کر دیا. کس قدر آسان نسخہ، کس قدر سہل مداوا ہے. جب تک بس چلے آمرِ وقت کے دستِ ستمگر پر بوسے دیتے رہو، اس کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتے رہو، اس کی چاپلوسی کو فلسفہ سیاست کی معراج قرار دیتے رہو، اس کی جمہوریت کشی کو دلائل کی قبائیں پہناتے رہو، اس کی رعونت کی دہلیز پر سجدے کرتے رہو، اس کی درندگی کو قومی مفاد کا جامہ زیبا پہناتے رہو، اس کی وطن فروشی کو حکمت کہتے رہو، اس کی دختر فروشی کو مصلحت کشی قرار دیتے رہو، اس کی بردہ فروشی پہ تالیاں پیٹتے رہو، اس کی سرکشی کے سامنے کورنش بجا لاتے رہو،اس کی آئین شکنی کے قصیدے پڑھتے رہو، اس کے گھناؤنے کردار کی ترجمانی کو اعزاز سمجھتے رہو، اس کے دستر خوان کی ہڈیاں چچوڑتے رہو اور جب مکافاتِ عمل ڈکٹیٹر کو گرفت میں لے لے، مکے لہرانے والے بازو خزاں رسیدہ شاخوں کی طرح ناتواں ہو جائیں، اس کے سوکھے بالوں میں جوئیں رینگنے لگیں، اس کے دانت جھڑ جائیں، اس کے پنجے کوڑھ کا شکار ہو کر گلنے سڑنے لگیں اور اس کا دسترخوان لپٹنے لگے تو گھر لوٹ آؤ اور کہو ’’یہ سب اس کا کیا دھرا تھا‘‘ کوئی دن گوشہ نشینی میں گزارو. جب یقین ہو جائے کہ غم ہائے روزگار کی چکی میں پستے ہوئے لوگ بھول بھال گئے ہوں گےتو ایک بار پھر خلقِ خدا کی نمائندگی کا تاج سر پہ سجانے کی آرزو میں یہ کہتے ہوئے میدان میں کود پڑو کہ ’’میں نے معافی مانگ لی ہے‘‘.
عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے مجرم قرار دیا تو جناب مشاہد حسین سید بھی نعرہ زن ہوئے. انہوں نے حکومت پر طعن کیا. اصحاب ’’ق‘‘کے عمائدین نے بھی بھاشن دیا، شیخ رشید احمد نے بھی لب کشائی کی. آنکھ کی حیا کا یہ عالم ہے کہ جس شخص نے عافیہ کو امریکی درندوں کے ہاتھ بیچا یہ سب اس شخص کی غلامی پر ناز کرتے رہے. عافیہ 31مارچ 2003ء کو اٹھائی گئی تو یہ سب مشرف کے دست بستہ درباری بنے ہوئے تھے. ساڑھے چار برس تک وہ جانے کن عقوبت خانوں میں تڑپتی رہی اور یہ سب اقتدا کی عشرتیں سمیٹتے رہے. آج یہ عوام کو احساس دلا رہے ہیں کہ عافیہ کے غم نے انہیں نڈھال کر دیا ہے. کیا فریب کی کوئی حد نہیں ہوتی؟ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کی اور فرمایا ’’میں نے لال مسجد کے واقعہ پر بھی معافی مانگ لی تھی‘‘. کیا معافی کا لفظ نوکِ زباں پر لاتے ہی سارا ماضی دھل جاتا ہے؟ یہ کوئی معمولی سانحہ نہ تھا.انگریز ایک صدی تک یہاں قابض رہا. اس کے سامراجی مظالم کی درندہ صفت کہانیاں تاریخ کے اوراق پر جا بجا بکھری پڑی ہیں. امریکہ گزشتہ نو برس سے درندگی کا ایک شرمناک باب رقم کر رہا ہے.بھارت نصف صدی سے مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے.لیکن جو کچھ لال مسجد میں ہوا اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی.یہ سانحہ کسی لادین یا غیر مسلم ملک میں نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوا. اس ملک میں ہوا جو لا الہ الا اللہ کے نعرے پر تخلیق ہوا.اسلام کی بیٹیوں پر یہ ستم اس شہر میں ٹوٹا جس کا نام ’اسلام آباد‘ ہے. یہ غارت گری اللہ کے گھر اور اس سے منسلکہ بچیوں کے دینی مدرسے میں ہوئی.قرآن کی تلاوت کرتی معصوم بیٹیاں فاسفورس کے بموں کا رزق ہو گئیں. اُن کی گلی سڑی ہڈیاں گندے نالوں میں بہا دی گئیں. کیا دلوں کو چیر دینے والا سانحہ تھا کہ اڑھائی سال بعد بھی خون کے آنسو رلا دیتا ہے.
اور موصوف کس سادگی سے فرماتے ہیں.’’میں نے معافی مانگ لی تھی‘‘.4 جولائی 2007ء کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ پہ یلغار ہوئی. پانی بند، خوراک بند، بجلی بند، پانچ دن وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتی رہیں. 9 جولائی کو آپریشن ہوا اور پاکباز روحیں آسمانوں کو پرواز کر گئیں. جناب شیخ اُس وقت کہاں تھے؟ کیا کر رہے تھے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ قیامت کی اس گھڑی میں بھی اُن کے لئے ’سید مشرف‘ کی چاکری، سید الابرار کی خوشنودی سے زیادہ عزیز رہی. قبیلہ ’ق‘کا کوئی ایک فرد بھی مستعفی نہیں ہوا. آج یہی قبیلہ شیخ صاحب کی پشت پر کھڑا اُن کی فتح کے لئےنعرہ زن ہے.مشرف کے عہد نابکار میں کیا کیا نہیں ہوا. جمہوریت قتل ہوئی، آئین مسخ ہوا، پورا ملک امریکہ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا گیا، ڈرون حملوں کا اجازت نامہ دیا گیا، دینی مدارس کو نکیل ڈالی گئی،علماء کی قبائیں نوچی گئیں، اسلام کا مضحکہ اُڑایا گیا، بگٹی کو قتل کیا گیا، بھارت کی غلامی اختیار کی گئی،عافیہ صدیقی کو امریکی گرگوں کے حوالے کیا گیا، سینکڑوں افراد کو بیچ دیا گیا، ڈاکٹر عبد القدیر کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، ججوں کو بچوں سمیت قید کیا گیا، قبائلی علاقوں کو میدانِ جنگ بنایا گیا، دینی مدرسے کے نوجوان طلبہ پر بمباری کرائی گئی، یہ سب کچھ ہوتا رہا لیکن شیخ صاحب اور ان کا قبیلہ ہاتھ باندھے، گردن جھکائے مشرف کی چوکھٹ پر کھڑے رہے. شیخ صاحب سانحہ لال مسجد کے پانچ ماہ سات دن بعد تک وزارت کے مزے لوٹتے رہے اور درندگی کی وکالت کرتے رہےیہاں تک کہ 16دسمبر2007ءکو حکومت ختم ہو گئی اور وہ گھر آ گئے. انہوں نے فروری 2008ء کا الیکشن بھی ’ق‘ کے رہنما اور مشرف کے ہمنوا کے طور پر لڑا . پنڈی کے لوگوں نے عبرت کا سبق یاد دلایا تو شیخ صاحب بولے . ’’مجھے لال مسجد لڑ گئی‘‘ ان کا یہ جملہ گواہی دیتا ہے کہ اُن کے دل میں لال مسجد کا کتنا احترام اور شہدا ءکا کیا درجہ و مقام ہے.
اللہ غفور و رحیم ہے. وہ جسے چاہے معاف کر دے لیکن وہ دلوں کے بھید بھی جانتا ہے. نیتوں کے احوال سے بھی با خبر ہے. وہ معافی کے ایسے اعلانات کے معنی و مفہوم کی تمام پرتوں سے واقف ہے.
عافیہ کے دکھ نے جامعہ حفصہ کی بچیوں کا غم بھی تازہ کر دیا ہے . اللہ کے خزانے بے کراں ہیں لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ عافیہ کو بیچنے اور جامعہ حفصہ کی بچیوں کو قتل کرنے والا قبیلہ معافی کا استحقاق کھو بیٹھا ہے. اس قبیلے کے سردار کو وطن کی مٹی سے کوسوں دور کر دیا گیا ہے اور اس کے چیلے کسی میدان میں سرخرو نہ ہوں گے. ان خونیوں کو معاف کر دینے والے بھی اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے. وہ دن بھی کیا دن ہو گا جب جامعہ حفصہ کی شہید بیٹیاں نورانی پوشاکیں پہنے میرے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے جلو میں کھڑی ہوں گی اور اُن کی انگلیاں قاتل قبیلے کی طرف اُٹھی ہوں گی اور سیاہ کار ٹولہ خوف سے کانپ رہا ہو گا اور کسی کی زبان کو یہ کہنے کا یارا نہ ہو گا کہ
” میں نے معافی مانگ لی تھی“.

اگر حلقہ این اے 55کے وہ تمام ووٹر جو شیخ رشید احمد کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ تحریر پڑھیں اور پھر بھی شیخ رشید کو ہی ووٹ دیں تو پھر کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ ہم عذابِ الٰہی سے دوچار نہ ہوں. میں یہ بالکل نہیں کہتاکہ یہ تمام ووٹ ”ن لیگ“ کو ملنے چاہئیں. پچھلے 2 سالوں میں ”ن“ کا کردار مجرمانہ حد تک مدافعانہ رہا ہے. بد قسمتی سے حلقہ کے عوام کے پاس موجود آپشنز میں سے کوئی بھی قابلِ قبول نہیں.

اللہ صرف اور صرف عوام کا حامی و ناصر ہو.

تبصرے 6

سچFebruary 8th, 2010 at 4:55 am

ممکن ہے آپ کے علم میں یہ نہ ہو کہ جنہوں نے عافیہ کو امریکہ کہ حوالے کیا اور جنہوں نے لال مسجد پر فاسفورس پھینکا اس کا نام پاکستان آرمی ہے مشرف کے جرنیلوں میں موجود کسی کو توفیق نہ ہوئی ان میں سے ایک صاحب اس وقت آئی ایس آ آئی کے چیف تھے اور مشرف کے رائٹ ہینڈ آج وہ سربراہ ہیں کیا عرفان صدیقی ان کے خلاف لکھنے کی جرات کر سکتے ہیں؟؟

بلاFebruary 8th, 2010 at 5:22 am

جناب سچ ہم آپ کی بات سے 100فیصد متفق ہیں مگر سرِ دست بات ہو رہی ہے شیخ رشید صاحب کی. اس بات کا تو مجھے یقین ہے کہ شیخ صاحب نہیں جیتیں گے مگر دلی خواہش یہ ہے کہ شیخ صاحب اور اصحابِ ”ق“ کا روزِ حساب اب شروع ہو ہی جائے جس کی ابتدا شیخ صاحب سے ہو جائے تو میں اسے پاکستان کے لئے نیک شکون سمجھوں گا.

کنفیوز کامیFebruary 10th, 2010 at 5:04 pm

کرپیاء دھیان دیں سب ہی بلاگر سیاسی کت خانے پر لکھنے سے پرھیز کریں شکریہ

بلوُFebruary 11th, 2010 at 8:11 am

کیوں جی؟؟؟؟؟؟؟؟

سعدFebruary 17th, 2010 at 6:27 am

ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ضرور ملے گی انشاءاللہ

بلوُFebruary 17th, 2010 at 9:54 am

سعد صاحب : اللہ آپ کی اور ہماری اس دعا کو قبول فرمائے. آمین

تبصرہ کریں

Your comment



Spam protection by WP Captcha-Free