کرتوتوں کی سزا

کل جب میں‌ دفتر جانے کے لئے ایک رکشے میں سوار ہوا تو رکشہ ڈرائیور جو کہ ایک بابا جی تھے نے مجھ سے کہا کہ بیٹا میں آپ کو اپنے بچپن کا ایک واقعہ سناتا ہوں، مجھے لگا کہ یہ قصہ آپ سب سے شئیر کرنا چاہیئے

بابا جی کی زبانی:
جب میں 12 سال کا تھا تو ہمارے گاؤں میں زبردست اور طوفانی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا اور گاؤں کا کوئی ایک گھر بھی نہیں بچا تھا سب لوگ پریشان تھے کہ کیا کریں کوئی 10 دن گزرے اور بارش اسی طرح زور و شور سے جاری تھی ہماری مسجد کے مولوی صاحب نے کہا کہ جتنے بھی مرد ہیں وہ وضو کر کے میدان میں جمع ہو جائیں سب نے یہ ہی کیا اور سب نے نماز پڑھی اور ہاتھ الٹے کر کے دعا مانگی اور آپ یقین کریں کہ بارش جو کہ رکنے کا نام ہی نہیں‌لے رہی تھی صرف دو منٹ میں رک گئی اور سب لوگوں نے سکون لیا۔ تو بیٹا اس وقت کے لوگوں کو یہ معلوم تھا کہ اللہ سے معافی مانگی جائے تو دعا قبول ہوجاتی ہے اور ضرور کوئی ایسی بات تھی جو کہ اللہ کو بری لگ گئی تھی اور ہم پر وہ عذاب نازل ہوا تھا ہم نے سچے دل سے معافی مانگی اور اللہ نے ہمیں معاف کر دیا۔ پر آج کل ایسا کچھ نہیں بارش نہیں ہو رہی تو کسی کو خیال ہی نہیں اور کوئی یہ سوچتا ہی نہیں کہ اللہ نے ہم پر یہ عذاب کیوں نازل کیا ہے جو کہ کبھی حکمرانوں کی شکل میں آتا ہے کبھی بارش نہ ہونے کی صورت میں پر کسی کو کوئی فکر نہیں سب کے سب اپنی دھن میں مگن ہیں سوچتے ہیں کہ معافی مانگ لی تو شائد اُن کی شان میں فرق آجائے گا۔ لڑکے لڑکیوں نے اپنے اپنے حلیے عجیب و غریب بنا رکھے ہیں‌داڑھی کی جگہ نقش و نگار بنائے ہوئے ہیں اورلڑکیوں کو دیکھو پردہ نام کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں ہیں۔ سب کے سب بے حس ہیں۔ حالانکہ یہ ہمارے اپنے کرتوتوں کی سزا ہے اگر انہیں ٹھیک کرلیں اور اللہ سے معافی مانگ لیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔

میں چپ کر کے سنتا رہا اور بس میرا سٹاپ آگیا۔



کرتوتوں کی سزا پر 19 تبصرے

  1. بابا جی کی عمر کیا ہو گی؟
    بابا جی کے رکشے کا نمبر کیا تھا؟
    رکشہ ٹو سٹروک تھا یا فور ستروک؟
    ڈیزل تھا یا سی این جی؟
    چنگی گل کرو گے تو آگے سے ایسی ہی باتیں سننے کو ملیں گی
    فوزیہ وہاب سے تو یہی سیکھا ہے میں نے :mrgreen:
    .-= DuFFeR – ڈفر´s last blog ..آپ اپنا تعارف ۔۔۔ =-.

  2. بلوُ says:

    ڈفر صاحب آپ نے سیکھا بھی تو کس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. باباجی نے اسلامی بات کی ہے یہ حقیقت ہے کہ ہم حقیقت کا جان بوجھ کر انکار کر رہے ہیں۔ رہ گئی لڑکیوں کے پردے کی بات تو ہم بھی اس موضوع پر بحثو بحث ہو رہے ہیں ۔
    http://kami.wordpress.pk/%da%88%da%be%d9%84%d8%aa%db%92-%d8%a2%d9%86%da%86%d9%84/

  4. خاور says:

    ڈفر کی بات “سٹ ” پانے والی نہیں هے
    اس نے جو تعلیم حاصل کی هے اج کل یهي چل رهی هے
    بلکه جی آپ کا معیار هی کتنا کمتر هے که ایک رکشے والے کی بات عقل کی بات سمجھ رهے هیں یعنی صرف ایک رکشی ڈرائیور جس امکان غالب هے که مالک بھی کوئی اور هو گا
    کسی امیر بندے کی بات کریں جی !ـ نہیں بلکه کسی غیر ملکی کی بات کریں تو هم اس کو عقل کی بات مانيں گے
    .-= خاور´s last blog ..بالغ باتیں =-.

  5. arifkarim says:

    مغرب پرستی کا نتیجہ ہے۔ اپنا دین ایمان خود ڈبویا ہے ہمنے!

  6. مجھے ایک بہت پرانا واقعہ یاد کرا دیا آپ نے ۔ اپنے بلاگ پر آپ کی تحریر کے حوالے سے لکھوں تاکہ سب کو پڑھنے کا موقع ملے ۔
    .-= افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..کیسا صنم =-.

  7. بلوُ says:

    کامی جی اس میں صرف ٌرکیوں کے پردے کی بات نہیں لڑکوں نے منہ پر بنے نقش و نگار کی بھی بات ہوئی ہے جس پر با با جی نے زیادہ زور دیا تھا

  8. بلوُ says:

    خاور صاحب یہاں پر غیر ملکی رکشہ ڈرائیور تو صرف افغانی ہی ہوسکتا ہے
    بہر حال آپ نے بات بڑی پتے کی کی ہے :smile:

  9. بلوُ says:

    عارف صاحب : جی بالکل
    افتخار اجمل بھوپال صاحب ضرور لکھیں ہمیں انتظار رہے گا

  10. میڈیا “کلٹی ویے شن” تھیوری

  11. اللہ ہمارے تمام گناہ معاف فرمائے

  12. نازیہ says:

    رکشے والے نے جو عقل کی بات کی اسے فوک وزڈم کہتے ہیں . ان لوگوں نے بھی زندگی گزاری ہوتی ہے اور کچھ علم اور تجربہ رکھتے ہیں. جہاں تک پردے کی بات ہے . تو جن لڑکیوں نے پردہ کیا ہوتا ہے ان کا زیادہ پیچھا کیا جاتا ہے اور تنگ کیا جاتا ہے.
    .-= نازیہ´s last blog ..چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں =-.

  13. اٹھ دلا غافل نہ ہو کہ ایک دن چلے جانا ہے۔

    نکتہ معمولی سا ہے مگر سمجھے کون۔؟ یہاں تو یہ لگتا ہے ہر کوئی ہمیشہ کے لئیے تاابد رہنے کا مقصد لئیے بیٹھا ہے۔ میں ۔۔ میں۔۔۔ اور بس ۔۔۔ میں۔۔۔۔ اتنی شخصیت پرستی۔ انا پرستی۔ اور پتہ نہیں کون کونسے بُت ہیں جو دلوں میں ہم نے پال رکھے ہیں۔ کہ اللہ پناہ دے۔

  14. بلوُ says:

    جاوید صاحب آپ نے بالکل ٹھیک کہا

  15. بلوُ says:

    نازیہ جی آپ کی بات بھی صحیح ہے

  16. پردہ ہو یا داڑھی
    معاشرہ واقعی بگاڑ کی طرف گامزن ہو رہا ہے
    اور اس میں کلیدی کردار ہمارے میڈیا کا ہے
    آج کل بس فیشن کا دور دورہ ہے تو بس جو اچھا لگے اپنا لو
    پر سب کی تان لڑکیوں پر ہی آکر ٹوٹ جاتی ہے
    پردہ کرو جی
    مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا بھی حکم آیا ہے پر مرد تو مرد ہے نا
    اس کو کیا کہیئے

  17. بلوُ says:

    طارق راحیل صاحب بلاگ پر خوش آمدید
    بات تو آپ کی بھی ٹھیک ہی ہے۔
    پر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی کے آپ کے بلاگ پر تبصرہ کرنے کے لئے لاگ ان ہونے کی کیوں‌ضرورت ہے؟؟؟؟؟

  18. اسماء says:

    کہتے تو سچ ہیں بابا جی ۔۔۔ پر حالات کو اس موڑ تک لانے کے بھی ہم ہی ذمہ دار ہیں ۔۔۔

    ڈفر صاحب کی بات سے متفق ہوں :grin:

  19. بلوُ says:

    اسماء جی ٹھیک بات ہے کہ ذمہ دار تو ہم بھی ہیں پر ہم اپنی اپنی ذمہ داری کب سمجھیں گے۔

Leave a Reply



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)