ہائے شرماؤں، کس کس کو بتاؤں ایسے کیسے میں چھپاؤں سب سے اپنی پریم کہانیاں…….
نہیں جی یہ میری کوئی پریم کہانی نہیں ہے ، میں نے شروع میں جوجملہ لکھا ہے دراصل ایک ہندی گانے سے لیا گیا ہے کافی پرانا گانا ہے شائد آپ لوگوں نے سنا ہوا ہو خاص طور سے بزرگ بلاگرز جیسے ڈفر….. اس گانے اور میری کہانی میں صرف ایک چیز کامن ہے وہ صرف شرم والی بات ہے پر اب یہ کہانی یہاں لکھنے کے بعد وہ بھی ختم ہو جائے گی.
خیر کہانی کچھ یوں ہے بلکہ کہانی کیا دو مختلف پر ایک ہی نسل کے واقعات ہیں تو پہلا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک رات میں اصغر مال چوک جو کہ مری روڈ کی طرف ہے سے گزر رہا تھا رات کافی ہوچکی تھی کوئی ایک ڈیڑھ کا ٹائم ہوگا میں چوک میں کھڑا ہوگیا کہ کوئی ٹیکسی یا رکشہ مل جائے عید کا دن تھا میں اپنے رشتے دار کے گھر سے واپس آرہا تھا اس لئے بنا ٹھنا بھی تھا، خیر میں وہاں کھڑا ہوگیا ٹیکسی رکشہ کیا ملنا تھا ایک گاڑی رکی اور اس میں ایک عدد بندہ بیٹھا تھا اس نے شیشہ نیچے کیا اور پوچھا چلتا کیا؟ پہلے تو مجھے بات کچھ سمجھ نہیں آئی اور میں نے کہہ دیا مجھے نہیں جانا میں نے سوچا اب اس ٹائم لفٹ لینا مناسب نہیں . وہ چلا گیا تھوڑی دیر بعد ایک اور گاڑی رکی شیشہ نیچے ہوا اس میں بھی ایک بندہ تھا جب اس نے بھی وہ ہی سوال کیا تو مجھے فوراً سمجھ آگیا کہ اس کا مطلب کیا ہے میں نے غصے سے اسے کہا نہیں اور پیدل ہی جانا مناسب سمجھا. بعد میں معلوم ہوا کہ دراصل وہ ٹیکسی اور رکشوں کا سٹاپ تھا جہاں یہ لوگ رات کو بن ٹھن کے کھڑے ہوتے ہیں اور گاہگ گھیرتے ہیں. شکر ہے میری جان بچ گئی.
دوسرا واقعہ آج دن کا ہے میں مری روڈ پر پیٹرول پمپ کے باہر بلا صاحب کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک گاڑی رکی اور اس نے مجھے اشارہ کیا میں نے سوچا کہ راستہ پوچھ رہا ہے میں تھوڑا آگے ہوا اور اس سے پوچھا کیا تو اس نے پوچھا چلتا کیا؟؟؟؟؟
میں نے کہا نہیں وہ چلا گیا اور جاتے ہوئے اس کی گاڑی کے پچھلے شیشے پر میں نے لکھا دیکھا “خان ون” اور میں سمجھ گیا کہ مسئلہ کیا ہے……….اس واقعے سے پہلے میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی سوائے اپنے دو دوستوں کے ، پر آج جب دوبارہ میرے ساتھ یہ ہوا تو میں نے سوچا کے شرمانے کی کیا بات ہے بتاؤ سب کو کیونکہ اگر کسی بندے کو “چلتا کیا” کا مطلب نہیں پتا تو وہ کہیں اس مصیبت میں نہ پڑ جائے. آپ لوگ بھی دھیان رکھنا.
ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف زرداری کی بے وفائی یا جان چھڑائی کے بارے میں کچھ کہہ رہا ہے
یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے، کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں
اک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں
او وفا کہتے ہوئے تجھ کو تو شرماتا ہوں میں
بے وفا کہتے ہوئے تجھ کو تو شرماتا ہوں میں
آرزؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
جب بہار آئی گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں
حشر میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
اپنا غم دل کی زباں میں، دل کو سمجھاتا ہوں میں
آغا حشر کاشمیری
ایک سکول میں ایک مقابلہ رکھا گیا جس میں بچوں نے اپنے والد کے بارے میں سب سے خوبصورت بات لکھنی تھی کہ انہوں نے آج تک آپ کے لئے سب سے اچھاکام کیا کِیا ، جس بچے نے انعام حاصل کیا اس کا جملہ یہ تھا:
” میرے ابو نے میری پیاری امی سے شادی کی”
اگر یہ مقابلہ بلاول کے سکول میں رکھا جاتا تو وہ کیا لکھتا؟
ویسے یہ بات تو اس کے لئے بھی کہی جا سکتی ہےکیونکہ اس کے ابو نے بھی تو کچھ ایسا ہی کام کیا ہے اپنا بھی فائدہ کیا اور اپنے بچوں کا بھی.
آپ کا کیا خیال ہے؟
يہ عالم شوق کا، ديکھا نہ جائے
وہ بت ہے يا خدا، ديکھا نہ جائے
يہ کِن نظروں سے، تُو نے آج ديکھا
کہ تيرا ديکھنا، ديکھا نہ جائے
ہميشہ کيلئے مجھ سے بِچھڑ جا
يہ منظر بارہا، ديکھا نہ جائے
غلط ہے سنا، پر آزما کر
تجھے اے بے وفا، ديکھا نہ جائے
يہ محرومي نہيں پاسِ وفا ہے
کوئی تيرے سوا، ديکھا نہ جائے
يہي تو آشنا بنتے ہيں آخر
کوئی نا آشنا، ديکھا نہ جائے
فراز اپنے سوا ہے، کون تيرا؟
تجھے تجھ سے جدا، ديکھا نہ جائے
احمد فراز
اس تصویر کو دیکھ کر سمجھ نہیں آتا کہ کون ڈرائیو کر رہا ہے

اب مجھ سے کوئی یہ نہ پوچھے کہ شوق موق کا کیا مطلب ہے کیونکہ یہ بلاگ ہر عمر کے لوگ پڑھتے ہیں جس کو جو بھی سمجھنا ہے سمجھ لے.
ویلنٹائن ڈے کیا ہے؟ اور یہ کیوں منایا جاتا ہے خاص طور سے پاکستان اور تمام مسلم ممالک میں؟؟؟؟

ممکن ہے کچھ قارئین نے عرفان صدیقی صاحب کا یہ کالم بعنوان ’’یہ معافیاں…… ‘‘ نہ پڑھا ہو. اس لئے معلوماتِ عامہ میں اضافے کے لئے یہاں تحریر کیا جا رہا ہے.
نقشِ خیال
عافیہ پہ ٹوٹتے ستم نے ایک پرانے زخم کے بخیے بھی ادھیڑ ڈالے ہیں. مجھے جامعہ حفصہ کی شہید بچیاں شدت سے یاد آ رہی ہیں اور ایک رُکنی جماعت کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ادھڑے ہوئے زخم پر مٹھی بھر نمک چھڑک دیا ہے.ووٹوں کی جستجو میں دو باریش شخصیات کو اپنے دائیں بائیں بٹھا کر انہوں نے فرمایا ’’علما ء میرے ساتھ ہیں. میں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے مقتولین پر معافی مانگ لی ہے.‘‘
ایک جملے نے حساب بے باق اور کھاتہ صاف کر دیا. کس قدر آسان نسخہ، کس قدر سہل مداوا ہے. جب تک بس چلے آمرِ وقت کے دستِ ستمگر پر بوسے دیتے رہو، اس کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتے رہو، اس کی چاپلوسی کو فلسفہ سیاست کی معراج قرار دیتے رہو، اس کی جمہوریت کشی کو دلائل کی قبائیں پہناتے رہو، اس کی رعونت کی دہلیز پر سجدے کرتے رہو، اس کی درندگی کو قومی مفاد کا جامہ زیبا پہناتے رہو، اس کی وطن فروشی کو حکمت کہتے رہو، اس کی دختر فروشی کو مصلحت کشی قرار دیتے رہو، اس کی بردہ فروشی پہ تالیاں پیٹتے رہو، اس کی سرکشی کے سامنے کورنش بجا لاتے رہو،اس کی آئین شکنی کے قصیدے پڑھتے رہو، اس کے گھناؤنے کردار کی ترجمانی کو اعزاز سمجھتے رہو، اس کے دستر خوان کی ہڈیاں چچوڑتے رہو اور جب مکافاتِ عمل ڈکٹیٹر کو گرفت میں لے لے، مکے لہرانے والے بازو خزاں رسیدہ شاخوں کی طرح ناتواں ہو جائیں، اس کے سوکھے بالوں میں جوئیں رینگنے لگیں، اس کے دانت جھڑ جائیں، اس کے پنجے کوڑھ کا شکار ہو کر گلنے سڑنے لگیں اور اس کا دسترخوان لپٹنے لگے تو گھر لوٹ آؤ اور کہو ’’یہ سب اس کا کیا دھرا تھا‘‘ کوئی دن گوشہ نشینی میں گزارو. جب یقین ہو جائے کہ غم ہائے روزگار کی چکی میں پستے ہوئے لوگ بھول بھال گئے ہوں گےتو ایک بار پھر خلقِ خدا کی نمائندگی کا تاج سر پہ سجانے کی آرزو میں یہ کہتے ہوئے میدان میں کود پڑو کہ ’’میں نے معافی مانگ لی ہے‘‘.
عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے مجرم قرار دیا تو جناب مشاہد حسین سید بھی نعرہ زن ہوئے. انہوں نے حکومت پر طعن کیا. اصحاب ’’ق‘‘کے عمائدین نے بھی بھاشن دیا، شیخ رشید احمد نے بھی لب کشائی کی. آنکھ کی حیا کا یہ عالم ہے کہ جس شخص نے عافیہ کو امریکی درندوں کے ہاتھ بیچا یہ سب اس شخص کی غلامی پر ناز کرتے رہے. عافیہ 31مارچ 2003ء کو اٹھائی گئی تو یہ سب مشرف کے دست بستہ درباری بنے ہوئے تھے. ساڑھے چار برس تک وہ جانے کن عقوبت خانوں میں تڑپتی رہی اور یہ سب اقتدا کی عشرتیں سمیٹتے رہے. آج یہ عوام کو احساس دلا رہے ہیں کہ عافیہ کے غم نے انہیں نڈھال کر دیا ہے. کیا فریب کی کوئی حد نہیں ہوتی؟ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کی اور فرمایا ’’میں نے لال مسجد کے واقعہ پر بھی معافی مانگ لی تھی‘‘. کیا معافی کا لفظ نوکِ زباں پر لاتے ہی سارا ماضی دھل جاتا ہے؟ یہ کوئی معمولی سانحہ نہ تھا.انگریز ایک صدی تک یہاں قابض رہا. اس کے سامراجی مظالم کی درندہ صفت کہانیاں تاریخ کے اوراق پر جا بجا بکھری پڑی ہیں. امریکہ گزشتہ نو برس سے درندگی کا ایک شرمناک باب رقم کر رہا ہے.بھارت نصف صدی سے مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے.لیکن جو کچھ لال مسجد میں ہوا اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی.یہ سانحہ کسی لادین یا غیر مسلم ملک میں نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوا. اس ملک میں ہوا جو لا الہ الا اللہ کے نعرے پر تخلیق ہوا.اسلام کی بیٹیوں پر یہ ستم اس شہر میں ٹوٹا جس کا نام ’اسلام آباد‘ ہے. یہ غارت گری اللہ کے گھر اور اس سے منسلکہ بچیوں کے دینی مدرسے میں ہوئی.قرآن کی تلاوت کرتی معصوم بیٹیاں فاسفورس کے بموں کا رزق ہو گئیں. اُن کی گلی سڑی ہڈیاں گندے نالوں میں بہا دی گئیں. کیا دلوں کو چیر دینے والا سانحہ تھا کہ اڑھائی سال بعد بھی خون کے آنسو رلا دیتا ہے.
اور موصوف کس سادگی سے فرماتے ہیں.’’میں نے معافی مانگ لی تھی‘‘.4 جولائی 2007ء کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ پہ یلغار ہوئی. پانی بند، خوراک بند، بجلی بند، پانچ دن وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتی رہیں. 9 جولائی کو آپریشن ہوا اور پاکباز روحیں آسمانوں کو پرواز کر گئیں. جناب شیخ اُس وقت کہاں تھے؟ کیا کر رہے تھے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ قیامت کی اس گھڑی میں بھی اُن کے لئے ’سید مشرف‘ کی چاکری، سید الابرار کی خوشنودی سے زیادہ عزیز رہی. قبیلہ ’ق‘کا کوئی ایک فرد بھی مستعفی نہیں ہوا. آج یہی قبیلہ شیخ صاحب کی پشت پر کھڑا اُن کی فتح کے لئےنعرہ زن ہے.مشرف کے عہد نابکار میں کیا کیا نہیں ہوا. جمہوریت قتل ہوئی، آئین مسخ ہوا، پورا ملک امریکہ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا گیا، ڈرون حملوں کا اجازت نامہ دیا گیا، دینی مدارس کو نکیل ڈالی گئی،علماء کی قبائیں نوچی گئیں، اسلام کا مضحکہ اُڑایا گیا، بگٹی کو قتل کیا گیا، بھارت کی غلامی اختیار کی گئی،عافیہ صدیقی کو امریکی گرگوں کے حوالے کیا گیا، سینکڑوں افراد کو بیچ دیا گیا، ڈاکٹر عبد القدیر کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، ججوں کو بچوں سمیت قید کیا گیا، قبائلی علاقوں کو میدانِ جنگ بنایا گیا، دینی مدرسے کے نوجوان طلبہ پر بمباری کرائی گئی، یہ سب کچھ ہوتا رہا لیکن شیخ صاحب اور ان کا قبیلہ ہاتھ باندھے، گردن جھکائے مشرف کی چوکھٹ پر کھڑے رہے. شیخ صاحب سانحہ لال مسجد کے پانچ ماہ سات دن بعد تک وزارت کے مزے لوٹتے رہے اور درندگی کی وکالت کرتے رہےیہاں تک کہ 16دسمبر2007ءکو حکومت ختم ہو گئی اور وہ گھر آ گئے. انہوں نے فروری 2008ء کا الیکشن بھی ’ق‘ کے رہنما اور مشرف کے ہمنوا کے طور پر لڑا . پنڈی کے لوگوں نے عبرت کا سبق یاد دلایا تو شیخ صاحب بولے . ’’مجھے لال مسجد لڑ گئی‘‘ ان کا یہ جملہ گواہی دیتا ہے کہ اُن کے دل میں لال مسجد کا کتنا احترام اور شہدا ءکا کیا درجہ و مقام ہے.
اللہ غفور و رحیم ہے. وہ جسے چاہے معاف کر دے لیکن وہ دلوں کے بھید بھی جانتا ہے. نیتوں کے احوال سے بھی با خبر ہے. وہ معافی کے ایسے اعلانات کے معنی و مفہوم کی تمام پرتوں سے واقف ہے.
عافیہ کے دکھ نے جامعہ حفصہ کی بچیوں کا غم بھی تازہ کر دیا ہے . اللہ کے خزانے بے کراں ہیں لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ عافیہ کو بیچنے اور جامعہ حفصہ کی بچیوں کو قتل کرنے والا قبیلہ معافی کا استحقاق کھو بیٹھا ہے. اس قبیلے کے سردار کو وطن کی مٹی سے کوسوں دور کر دیا گیا ہے اور اس کے چیلے کسی میدان میں سرخرو نہ ہوں گے. ان خونیوں کو معاف کر دینے والے بھی اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے. وہ دن بھی کیا دن ہو گا جب جامعہ حفصہ کی شہید بیٹیاں نورانی پوشاکیں پہنے میرے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے جلو میں کھڑی ہوں گی اور اُن کی انگلیاں قاتل قبیلے کی طرف اُٹھی ہوں گی اور سیاہ کار ٹولہ خوف سے کانپ رہا ہو گا اور کسی کی زبان کو یہ کہنے کا یارا نہ ہو گا کہ
” میں نے معافی مانگ لی تھی“.
اگر حلقہ این اے 55کے وہ تمام ووٹر جو شیخ رشید احمد کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ تحریر پڑھیں اور پھر بھی شیخ رشید کو ہی ووٹ دیں تو پھر کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ ہم عذابِ الٰہی سے دوچار نہ ہوں. میں یہ بالکل نہیں کہتاکہ یہ تمام ووٹ ”ن لیگ“ کو ملنے چاہئیں. پچھلے 2 سالوں میں ”ن“ کا کردار مجرمانہ حد تک مدافعانہ رہا ہے. بد قسمتی سے حلقہ کے عوام کے پاس موجود آپشنز میں سے کوئی بھی قابلِ قبول نہیں.
اللہ صرف اور صرف عوام کا حامی و ناصر ہو.
آخر کار بہت عرصے بعد ہم اپنا بلاگ دوبارہ چالو کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں سوچا کہ خود سے تو کئی ہمیں ویلکم بیک نہیں کہنے والا اس لئے پوسٹ کا ٹائیٹل ہی یہ رکھ دیا. اس لئے اب سب لوگ جلدی جلدی ویلکم بیک کہہ دیں تاکہ ہم پھر سے فضول پوسٹیں لکھنا شروع کر دیں. شکریہ
February 4th,2010
ہیلو | tags:
Welcome |
تبصرے 8
کچھ دن پہلے ہم دوست کہیں سے واپس آرہے تھے راستے میں ایک سی این جی اسٹیشن پر گیس ڈلوانے اور اپنی اپنی سی این جی گیس خارج کرنے رکے گاڑی کی چابی ہم نے گیس بھرنے والے کو دی اور ساتھ ہی اس سے واش روم کے بارے میں پوچھا مکالمہ نیچے لکھ رہا ہوں:
پرائیویٹدوست: واش روم کہاں ہے؟
گیس والا: پیچھے
بلوُ: کِس کے؟
گیس والا ہنس کر ایک طرف اشارہ کرتا ہے
جب ہم جانے لگتے ہیں تو گیس والا پوچھتا ہے : کتنی کرنی ہے؟
بلا: فُل

بس جی میں نے تو فیصلہ کر لیا ہے میں ان بابا جی کو فون کر کے عملیات شروع کرواتا ہوں اور جو جو کام میں نے ان سے کروانے ہیں ان کی تفصیل لکھ دیتا ہوں آپ بھی پڑھیے
پاکستان سپر پاور بن جائے
تمام بد عنوان سیاست دان خود کو قانون کے حوالے کردیں
ملک سے بے روزگار نہیں بلکہ بے روزگاری ختم ہوجائے
ہمارا بلاگ سب سے ٹاپ پر پہنچ جائے اور ہر پوسٹ پر 100 سے زیادہ کمنٹس آئیں
کتا ہنسنا بند کردے جی جی وہ ہی کتا
۔
تمام لوگ آپس میں مل جل کر رہیں
لڑکے لڑکیوں کو اور لڑکیاں لڑکوں کو تنگ کرنا بند کردیں
سب لوگ پانچ وقت کی نمازیں پڑھنا شروع کردیں
لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے
مجرم جرم کرتے ہی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردے
ہماری پولیس سدھر جائے
اور اور اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔