شیخ رشید احمد امیدوار برائے حلقہ این اے 55 کا معافی نامہ
February 8th, 2010

ممکن ہے کچھ قارئین نے عرفان صدیقی صاحب کا یہ کالم بعنوان ’’یہ معافیاں…… ‘‘ نہ پڑھا ہو. اس لئے معلوماتِ عامہ میں اضافے کے لئے یہاں تحریر کیا جا رہا ہے.

نقشِ خیال

عافیہ پہ ٹوٹتے ستم نے ایک پرانے زخم کے بخیے بھی ادھیڑ ڈالے ہیں. مجھے جامعہ حفصہ کی شہید بچیاں شدت سے یاد آ رہی ہیں اور ایک رُکنی جماعت کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ادھڑے ہوئے زخم پر مٹھی بھر نمک چھڑک دیا ہے.ووٹوں کی جستجو میں دو باریش شخصیات کو اپنے دائیں بائیں بٹھا کر انہوں نے فرمایا ’’علما ء میرے ساتھ ہیں. میں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے مقتولین پر معافی مانگ لی ہے.‘‘
ایک جملے نے حساب بے باق اور کھاتہ صاف کر دیا. کس قدر آسان نسخہ، کس قدر سہل مداوا ہے. جب تک بس چلے آمرِ وقت کے دستِ ستمگر پر بوسے دیتے رہو، اس کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتے رہو، اس کی چاپلوسی کو فلسفہ سیاست کی معراج قرار دیتے رہو، اس کی جمہوریت کشی کو دلائل کی قبائیں پہناتے رہو، اس کی رعونت کی دہلیز پر سجدے کرتے رہو، اس کی درندگی کو قومی مفاد کا جامہ زیبا پہناتے رہو، اس کی وطن فروشی کو حکمت کہتے رہو، اس کی دختر فروشی کو مصلحت کشی قرار دیتے رہو، اس کی بردہ فروشی پہ تالیاں پیٹتے رہو، اس کی سرکشی کے سامنے کورنش بجا لاتے رہو،اس کی آئین شکنی کے قصیدے پڑھتے رہو، اس کے گھناؤنے کردار کی ترجمانی کو اعزاز سمجھتے رہو، اس کے دستر خوان کی ہڈیاں چچوڑتے رہو اور جب مکافاتِ عمل ڈکٹیٹر کو گرفت میں لے لے، مکے لہرانے والے بازو خزاں رسیدہ شاخوں کی طرح ناتواں ہو جائیں، اس کے سوکھے بالوں میں جوئیں رینگنے لگیں، اس کے دانت جھڑ جائیں، اس کے پنجے کوڑھ کا شکار ہو کر گلنے سڑنے لگیں اور اس کا دسترخوان لپٹنے لگے تو گھر لوٹ آؤ اور کہو ’’یہ سب اس کا کیا دھرا تھا‘‘ کوئی دن گوشہ نشینی میں گزارو. جب یقین ہو جائے کہ غم ہائے روزگار کی چکی میں پستے ہوئے لوگ بھول بھال گئے ہوں گےتو ایک بار پھر خلقِ خدا کی نمائندگی کا تاج سر پہ سجانے کی آرزو میں یہ کہتے ہوئے میدان میں کود پڑو کہ ’’میں نے معافی مانگ لی ہے‘‘.
عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے مجرم قرار دیا تو جناب مشاہد حسین سید بھی نعرہ زن ہوئے. انہوں نے حکومت پر طعن کیا. اصحاب ’’ق‘‘کے عمائدین نے بھی بھاشن دیا، شیخ رشید احمد نے بھی لب کشائی کی. آنکھ کی حیا کا یہ عالم ہے کہ جس شخص نے عافیہ کو امریکی درندوں کے ہاتھ بیچا یہ سب اس شخص کی غلامی پر ناز کرتے رہے. عافیہ 31مارچ 2003ء کو اٹھائی گئی تو یہ سب مشرف کے دست بستہ درباری بنے ہوئے تھے. ساڑھے چار برس تک وہ جانے کن عقوبت خانوں میں تڑپتی رہی اور یہ سب اقتدا کی عشرتیں سمیٹتے رہے. آج یہ عوام کو احساس دلا رہے ہیں کہ عافیہ کے غم نے انہیں نڈھال کر دیا ہے. کیا فریب کی کوئی حد نہیں ہوتی؟ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کی اور فرمایا ’’میں نے لال مسجد کے واقعہ پر بھی معافی مانگ لی تھی‘‘. کیا معافی کا لفظ نوکِ زباں پر لاتے ہی سارا ماضی دھل جاتا ہے؟ یہ کوئی معمولی سانحہ نہ تھا.انگریز ایک صدی تک یہاں قابض رہا. اس کے سامراجی مظالم کی درندہ صفت کہانیاں تاریخ کے اوراق پر جا بجا بکھری پڑی ہیں. امریکہ گزشتہ نو برس سے درندگی کا ایک شرمناک باب رقم کر رہا ہے.بھارت نصف صدی سے مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے.لیکن جو کچھ لال مسجد میں ہوا اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی.یہ سانحہ کسی لادین یا غیر مسلم ملک میں نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوا. اس ملک میں ہوا جو لا الہ الا اللہ کے نعرے پر تخلیق ہوا.اسلام کی بیٹیوں پر یہ ستم اس شہر میں ٹوٹا جس کا نام ’اسلام آباد‘ ہے. یہ غارت گری اللہ کے گھر اور اس سے منسلکہ بچیوں کے دینی مدرسے میں ہوئی.قرآن کی تلاوت کرتی معصوم بیٹیاں فاسفورس کے بموں کا رزق ہو گئیں. اُن کی گلی سڑی ہڈیاں گندے نالوں میں بہا دی گئیں. کیا دلوں کو چیر دینے والا سانحہ تھا کہ اڑھائی سال بعد بھی خون کے آنسو رلا دیتا ہے.
اور موصوف کس سادگی سے فرماتے ہیں.’’میں نے معافی مانگ لی تھی‘‘.4 جولائی 2007ء کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ پہ یلغار ہوئی. پانی بند، خوراک بند، بجلی بند، پانچ دن وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتی رہیں. 9 جولائی کو آپریشن ہوا اور پاکباز روحیں آسمانوں کو پرواز کر گئیں. جناب شیخ اُس وقت کہاں تھے؟ کیا کر رہے تھے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ قیامت کی اس گھڑی میں بھی اُن کے لئے ’سید مشرف‘ کی چاکری، سید الابرار کی خوشنودی سے زیادہ عزیز رہی. قبیلہ ’ق‘کا کوئی ایک فرد بھی مستعفی نہیں ہوا. آج یہی قبیلہ شیخ صاحب کی پشت پر کھڑا اُن کی فتح کے لئےنعرہ زن ہے.مشرف کے عہد نابکار میں کیا کیا نہیں ہوا. جمہوریت قتل ہوئی، آئین مسخ ہوا، پورا ملک امریکہ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا گیا، ڈرون حملوں کا اجازت نامہ دیا گیا، دینی مدارس کو نکیل ڈالی گئی،علماء کی قبائیں نوچی گئیں، اسلام کا مضحکہ اُڑایا گیا، بگٹی کو قتل کیا گیا، بھارت کی غلامی اختیار کی گئی،عافیہ صدیقی کو امریکی گرگوں کے حوالے کیا گیا، سینکڑوں افراد کو بیچ دیا گیا، ڈاکٹر عبد القدیر کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، ججوں کو بچوں سمیت قید کیا گیا، قبائلی علاقوں کو میدانِ جنگ بنایا گیا، دینی مدرسے کے نوجوان طلبہ پر بمباری کرائی گئی، یہ سب کچھ ہوتا رہا لیکن شیخ صاحب اور ان کا قبیلہ ہاتھ باندھے، گردن جھکائے مشرف کی چوکھٹ پر کھڑے رہے. شیخ صاحب سانحہ لال مسجد کے پانچ ماہ سات دن بعد تک وزارت کے مزے لوٹتے رہے اور درندگی کی وکالت کرتے رہےیہاں تک کہ 16دسمبر2007ءکو حکومت ختم ہو گئی اور وہ گھر آ گئے. انہوں نے فروری 2008ء کا الیکشن بھی ’ق‘ کے رہنما اور مشرف کے ہمنوا کے طور پر لڑا . پنڈی کے لوگوں نے عبرت کا سبق یاد دلایا تو شیخ صاحب بولے . ’’مجھے لال مسجد لڑ گئی‘‘ ان کا یہ جملہ گواہی دیتا ہے کہ اُن کے دل میں لال مسجد کا کتنا احترام اور شہدا ءکا کیا درجہ و مقام ہے.
اللہ غفور و رحیم ہے. وہ جسے چاہے معاف کر دے لیکن وہ دلوں کے بھید بھی جانتا ہے. نیتوں کے احوال سے بھی با خبر ہے. وہ معافی کے ایسے اعلانات کے معنی و مفہوم کی تمام پرتوں سے واقف ہے.
عافیہ کے دکھ نے جامعہ حفصہ کی بچیوں کا غم بھی تازہ کر دیا ہے . اللہ کے خزانے بے کراں ہیں لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ عافیہ کو بیچنے اور جامعہ حفصہ کی بچیوں کو قتل کرنے والا قبیلہ معافی کا استحقاق کھو بیٹھا ہے. اس قبیلے کے سردار کو وطن کی مٹی سے کوسوں دور کر دیا گیا ہے اور اس کے چیلے کسی میدان میں سرخرو نہ ہوں گے. ان خونیوں کو معاف کر دینے والے بھی اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے. وہ دن بھی کیا دن ہو گا جب جامعہ حفصہ کی شہید بیٹیاں نورانی پوشاکیں پہنے میرے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے جلو میں کھڑی ہوں گی اور اُن کی انگلیاں قاتل قبیلے کی طرف اُٹھی ہوں گی اور سیاہ کار ٹولہ خوف سے کانپ رہا ہو گا اور کسی کی زبان کو یہ کہنے کا یارا نہ ہو گا کہ
” میں نے معافی مانگ لی تھی“.

اگر حلقہ این اے 55کے وہ تمام ووٹر جو شیخ رشید احمد کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ تحریر پڑھیں اور پھر بھی شیخ رشید کو ہی ووٹ دیں تو پھر کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ ہم عذابِ الٰہی سے دوچار نہ ہوں. میں یہ بالکل نہیں کہتاکہ یہ تمام ووٹ ”ن لیگ“ کو ملنے چاہئیں. پچھلے 2 سالوں میں ”ن“ کا کردار مجرمانہ حد تک مدافعانہ رہا ہے. بد قسمتی سے حلقہ کے عوام کے پاس موجود آپشنز میں سے کوئی بھی قابلِ قبول نہیں.

اللہ صرف اور صرف عوام کا حامی و ناصر ہو.

ویلکم بیک
February 4th, 2010

آخر کار بہت عرصے بعد ہم اپنا بلاگ دوبارہ چالو کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں سوچا کہ خود سے تو کئی ہمیں ویلکم بیک نہیں کہنے والا اس لئے پوسٹ کا ٹائیٹل ہی یہ رکھ دیا. اس لئے اب سب لوگ جلدی جلدی ویلکم بیک کہہ دیں تاکہ ہم پھر سے فضول پوسٹیں لکھنا شروع کر دیں. شکریہ

سی این جی
October 31st, 2009

کچھ دن پہلے ہم دوست کہیں سے واپس آرہے تھے راستے میں ایک سی این جی اسٹیشن پر گیس ڈلوانے اور اپنی اپنی سی این جی گیس خارج کرنے رکے گاڑی کی چابی ہم نے گیس بھرنے والے کو دی اور ساتھ ہی اس سے واش روم کے بارے میں پوچھا مکالمہ نیچے لکھ رہا ہوں‌:

پرائیویٹ‌دوست: واش روم کہاں ہے؟
گیس والا: پیچھے
بلوُ: کِس کے؟
گیس والا ہنس کر ایک طرف اشارہ کرتا ہے
جب ہم جانے لگتے ہیں تو گیس والا پوچھتا ہے :‌ کتنی کرنی ہے؟
بلا:‌ فُل

صوفی عامل اور میری خواہشات
October 15th, 2009

Image-01
بس جی میں نے تو فیصلہ کر لیا ہے میں ان بابا جی کو فون کر کے عملیات شروع کرواتا ہوں اور جو جو کام میں نے ان سے کروانے ہیں ان کی تفصیل لکھ دیتا ہوں آپ بھی پڑھیے

پاکستان سپر پاور بن جائے
تمام بد عنوان سیاست دان خود کو قانون کے حوالے کردیں
ملک سے بے روزگار نہیں بلکہ بے روزگاری ختم ہوجائے
ہمارا بلاگ سب سے ٹاپ پر پہنچ جائے اور ہر پوسٹ پر 100 سے زیادہ کمنٹس آئیں
کتا ہنسنا بند کردے جی جی وہ ہی کتا :D ۔
تمام لوگ آپس میں مل جل کر رہیں
لڑکے لڑکیوں کو اور لڑکیاں لڑکوں کو تنگ کرنا بند کردیں
سب لوگ پانچ وقت کی نمازیں پڑھنا شروع کردیں
لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے
مجرم جرم کرتے ہی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردے
ہماری پولیس سدھر جائے

اور اور اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیستی
October 13th, 2009

ایک عدد لنک پوسٹ رہا ہوں میں نے تو ابھی دیکھا ہے شائد آپ لوگوں نے دیکھا ہوا ہو پر ہے بہت مزے کا
خواتین سے معذرت کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔ :oops:

مشرف کی بیستی

کرتوتوں کی سزا
October 9th, 2009

کل جب میں‌ دفتر جانے کے لئے ایک رکشے میں سوار ہوا تو رکشہ ڈرائیور جو کہ ایک بابا جی تھے نے مجھ سے کہا کہ بیٹا میں آپ کو اپنے بچپن کا ایک واقعہ سناتا ہوں، مجھے لگا کہ یہ قصہ آپ سب سے شئیر کرنا چاہیئے

بابا جی کی زبانی:
جب میں 12 سال کا تھا تو ہمارے گاؤں میں زبردست اور طوفانی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا اور گاؤں کا کوئی ایک گھر بھی نہیں بچا تھا سب لوگ پریشان تھے کہ کیا کریں کوئی 10 دن گزرے اور بارش اسی طرح زور و شور سے جاری تھی ہماری مسجد کے مولوی صاحب نے کہا کہ جتنے بھی مرد ہیں وہ وضو کر کے میدان میں جمع ہو جائیں سب نے یہ ہی کیا اور سب نے نماز پڑھی اور ہاتھ الٹے کر کے دعا مانگی اور آپ یقین کریں کہ بارش جو کہ رکنے کا نام ہی نہیں‌لے رہی تھی صرف دو منٹ میں رک گئی اور سب لوگوں نے سکون لیا۔ تو بیٹا اس وقت کے لوگوں کو یہ معلوم تھا کہ اللہ سے معافی مانگی جائے تو دعا قبول ہوجاتی ہے اور ضرور کوئی ایسی بات تھی جو کہ اللہ کو بری لگ گئی تھی اور ہم پر وہ عذاب نازل ہوا تھا ہم نے سچے دل سے معافی مانگی اور اللہ نے ہمیں معاف کر دیا۔ پر آج کل ایسا کچھ نہیں بارش نہیں ہو رہی تو کسی کو خیال ہی نہیں اور کوئی یہ سوچتا ہی نہیں کہ اللہ نے ہم پر یہ عذاب کیوں نازل کیا ہے جو کہ کبھی حکمرانوں کی شکل میں آتا ہے کبھی بارش نہ ہونے کی صورت میں پر کسی کو کوئی فکر نہیں سب کے سب اپنی دھن میں مگن ہیں سوچتے ہیں کہ معافی مانگ لی تو شائد اُن کی شان میں فرق آجائے گا۔ لڑکے لڑکیوں نے اپنے اپنے حلیے عجیب و غریب بنا رکھے ہیں‌داڑھی کی جگہ نقش و نگار بنائے ہوئے ہیں اورلڑکیوں کو دیکھو پردہ نام کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں ہیں۔ سب کے سب بے حس ہیں۔ حالانکہ یہ ہمارے اپنے کرتوتوں کی سزا ہے اگر انہیں ٹھیک کرلیں اور اللہ سے معافی مانگ لیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔

میں چپ کر کے سنتا رہا اور بس میرا سٹاپ آگیا۔

ہمارے جوان
October 7th, 2009

میں ‌یہاں ایک لنک پوسٹ کر رہا ہوں جس کو دیکھنے کے لئے آپ کو یو ٹیوب پر لاگ ان کرنا پڑے گا، ہوسکتا ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگوں نے یہ ویڈیو دیکھی بھی ہو پر میں‌نے شئیر کرنا ضروری سمجھا تو لنک یہ ہے

داستان ایمان فروشوں کی
October 1st, 2009

وہ قوم جو اپنی اُن بچیوں اور بچوں‌کو بھول جائے جو دشمن کے استبداد میں ذلیل و خوار اور قتل ہوئے ، وہ قوم ڈاکوؤں اور رہزنوں کا گروہ بن جاتی ہے۔ اس قوم کے افراد دشمن سے انتقام لینے کی بجائے ایک دوسرے کو لوٹتے، ایک دوسرے کو فریب دیتے ہیں۔ اُن کے حاکم قوم کو لوٹتے اور عیش و عشرت کرتے ہیں اور جب دشمن انہیں کمزور پاکر اُن کے سر پرآجاتا ہے تو کھوکھلے نعرے لگا کر قوم کو بے وقوف بناتے اور دشمن کے ساتھ درپردہ سودا بازی کرتے ہیں ۔ وہ اپنے ملک کا کچھ حصہ اور اس حصے کی آبادی نہایت رازدانہ طریقے سے دشمن کے حوالے کرکے باقی ملک میں اپنی حکمرانی قائم رکھتے ہیں۔ پھر وہ اور زیادہ لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دشمن انہیں بخشے گا نہیں – یہ عیش چند روزہ ہے، لہٰذا قوم کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی جلدی جلدی نچوڑلو۔

التمش کی کتاب داستان ایمان فروشوں کی سے لیا گیا ایک چھوٹا سا پیرا گراف جس میں کہی گئی بات چھوٹی سی نہیں اور لگتا ہے کہ جیسے ہمارے لئے ہی کہی گئی ہو۔ آج ہمارے ہاں بھی حالات ایسے ہی ہیں۔

کتا
September 30th, 2009

ایک ایس ایم ایس
جب ایس ایم ایس پیکیجز ختم ہو جائیں گے
تو چار لوگ سب سے زیادہ خوش ہوں گے

فراز
پٹھان
سردار اور
کتا
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
جی بالکل وہ ہی کتا۔۔۔۔۔۔ :mrgreen: ۔

عشق
September 28th, 2009

عشق دل میں رہے تو رسوا ہو

لب پہ آئے تو راز ہو جائے

فیض احمد فیض