پبلک لیٹرین کی دیوار سے ایک اقتباس
مشرف غدار ہے اسے پانسی دیا جائے
بحکم:صدر زرداری خان
باوثوق ذرائع سے پتا چلا ہے کہ ڈفر نے بلاگستان چھوڑ دیا ہے ، اور اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی
اب اس کی کوئی بھی وجہ ہو پر ڈفر کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، آپ سب لوگوں سے گزارش ہے کہ ڈفر کو اس بلاگستانی دنیا میں واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کریں ورنہ یہ ایک بہت بڑا نقصان ہوگا. اور اگر ان کوششوں کے با وجود بھی ڈفر واپس نہیں آتا تو پھر ہم انہیں الوداع ہی کہہ سکتے ہیں. نہیں؟
نظم شروع کرنے سے پہلے آپ لوگوں کو یہ بتانا ضرور پسند کروں گا کہ ججا ہے کیا چیز. ویسے تو مجھے اتنا بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ جن لوگوں کے ہاں بیٹیاں ہیں اور وہ شادی شدہ ہیں تو وہ لوگ اس مخلوق سے اچھی طرح واقف ہیں اور اس کا شکار بھی .
ہمارے اور ہمارے پرائیویٹ دوست کے ہاں اس مخلوق کو ججے کے نام سے پکارا جاتا ہے اسی حوالے سے پیشِ خدمت ہے ایک نظم جس میں تھوڑی سی ردو بدل کے بعد ججا فٹ کیا گیا ہے.
پانچ ججے گھر سے نکلے سیدھے چلے سسرال
ایک ججے کو چڑھ گئے نخرے باقی رہ گئے چار
چار ججے خوشی میں آکر لگے بجانے بین
ایک ججے کو آگئی کھانسی باقی رہ گئے تین
تین ججے ہنس کر بولے سسرال کو بھاگ چلو
ایک ججے نے بات نہ مانی باقی رہ گئے دو
دو ججے جو رہ گئے باقی دونوں ہی نہیں تھے نیک
ایک ججے کو لے گئی بیوی باقی رہ گیا ایک
ایک ججا جو رہ گیا باقی تھا وہ بڑا سویٹ
پر جب اصلیت پتا چلی تو نکلا بڑا ہی ڈھیٹ
پچھلے کافی دنوں سے ملکی حالات کی وجہ سے لوگوں میں کافی پریشانی پھیلی ہوئی تھی پر جب زرداری پر جوتا اچھالا گیا تو پورے ملک میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی. اور لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارکبادیں دینا شروع کردی جیسے کوئی خوشی کا موقع آیا ہو.
ادھر زرداری کو کتا کہلوانے پر اتنی تکلیف نہیں ہوئی جتنی جوتا کھانے پر ہوئی اوروہ بلبلا اُٹھا.
آپ کا کیا خیال ہے؟
کتے کا نام ٹھیک تھا یا جوتا کھانا؟
سنا ہے کہ آج کل بلاگستان میں سب لوگ ایک دوسرے پر وار کرنے میں مصروف ہیں اور بلاگستان کو میدانِ جنگ بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے کچھ بلاگرز نے بلاگنگ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟
کیا آپ لوگوں نے اسی لئے بلاگنگ شروع کی تھی ؟
بجائے اس کے کہ آپ لوگ ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے آپ نے بلاگنگ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور ہار مان کر چلے گئے. اور جن لوگوں نے ایک دوسرے کو بھگانے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے میں ان لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ بلاگستان کو صرف اپنی ملکیت نا سمجھیں ایک آدھ بار ایوارڈ جیت لینے کا مطلب یہ نہیں کہ باقی لوگ کسی قابل نہیں. اس لئے لڑائی چھوڑیں اور اپنے اپنے بلاگ پر توجہ دیں. میں اس سلسلے میں منظرنامہ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اس چیز کا سختی سے نوٹس لیں اور کچھ کریں.
شکریہ
پچھلی قسط
اگلے دن سکندر بادشاہ السطو استاد کے پاس گیا اور اسے یہ سارا ماجرا سنایا جس پر السطو استاد نے کہا کہ میں نے کہا تھا نہ کہ وہ عورت نہیں ناگن ہے ، جب تو نے اس کے ناگ کو مارا تھا تو اس ناگن نے بدلہ لینے کے لئے اپنے سو سال پورے ہونے کا انتظار کیا اور چونکہ سانپ کے سو سال پورے ہوتے ہی اللہ اس سے پوچھتا ہے کہ اے میری مخلوق بتا تو کیا بننا چاہتی ہے تو سانپ انسان بن جاتا ہے اور یہ بھی انسان بن گئی اور بدلے کی آگ میں تجھ سے شادی کرلی.
پھر السطو استاد نے کہا کہ میرے پاس ایسے مجرب یونانی نسخے ہیں جن کے زور سے تو ناگن تو کیا شیرنی کو بھی قابو میں لا سکتا ہے. یہ سن کے سکندر بادشاہ کے منہ میں اور پتہ نہیں کہاں کہاں پانی آ گیا . اُس نے فورا السطو استاد کو نسخوں کا آرڈر کر دیا. السطو استاد نے فورا ایڈوانس رقم وصول کی اور نسخے اپنے مطب سے بقایا رقم ادا کرنے پر حاصل کرنے کا کہہ کے رخصت ہو گیا. سکندر بادشاہ نسخوں کے نتیجے میں اپنی ناگن بیوی کو متوقع طور پر قابو میں لانے کے بارے میں سوچنے لگا اور سوچتے سوچتے سو گیا.
دوسری طرف اُس کی ناگن بیوی ایک اندھیرے غار میں ایک ٹانگ پر کھڑی چلہ کاٹ رہی تھی کہ وہ سکندر بادشاہ سے اپنا انتقام لینے میں کامیاب ہو جائے. اسی دوران اس کے مرحوم ناگ کی ماں ناگن اُس کے پاس آئی اور اس کو طعنے دینے لگی کہ تو نے ابھی تک اپنے ناگ کا انتقام نہیں لیا.اس پر ناگن نے کہا کہ میں کیا کروں ساسو ماں. میں نے تو سکندر بادشاہ کا کام تمام کر ہی دیا ہوتا لیکن بیچ میں وہ کمبخت السطو استاد آ گیا. اس نے سکندر بادشاہ کو ایسے ایسے تیر بہدف یونانی نسخے دئیے ہیں کہ میں تو اس کے سامنے جا کے بے خود ہی ہو جاتی ہوں. اب تو ہی بتا کہ میں کیسے اپنے ناگ کا انتقام لوں. ساسو ماں نے یہ سن کر ایک ششکار بھری اور کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پہلے اس موئے السطو استاد کا کوئی پکا انتظام کرنا پڑے گا.ویسے بھی تیرا سسر ناگ اب اس دنیا میں نہیں رہا اور میں بھی اکیلی رہ رہ کے تنگ آ چکی ہوں. ساتھ ہی اُس نے اپنی بہو ناگن کو یہ تاکید کی کہ آج سے تو سکندر بادشاہ کے کان السطو استاد کے خلاف بھرنا شروع کر دے. آیا بڑا عالم بنا پھرتا ہے.
جاری ہے…….
پچھلے دنوں ایک جگہ سے گزر ہوا تو ایک بینر دیکھا جو کہ اردو میں تھا، قابلِ اعتراض بات یہ نہیں کہ وہ اردو میں تھا بلکہ اس پر جو کچھ لکھا تھا وہ پڑھ کر بڑا عجیب لگا. اصل میں وہ ایک سکول کا بینر تھا جو کہ ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں پیدا ہوا ہے. ٹھیک ہے سکول بناؤ پر نام تو کوئی ایسا رکھو کہ جسے پڑھ کر بچوں کا دل کرے سکول آنے کا نہ کہ ان کے باپوں کا
تو پیشِ خدمت ہے سکول کا نام اور اس کے بورڈ کی ایک تصویر.
اب لسٹی ماڈل سکول بھی کوئی نام ہوا بھلا ، ویسے لسٹی کا مطلب جو بھی ہو ، پر اب یہ بات تو ہم سب کو معلوم ہے کہ بہت سارے لفظوں کا مطلب تبدیل ہو چکا ہے باقی آپ لوگ خود سمجھدار ہیں. میں کیا کہوں. میرا خیال ہے کہ سکول کا نام رکھنے والے کو خود پتا نہیں کہ اس کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے.
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سکندر بادشاہ کسی جنگل میں شکار کے لئے گیا. وہاں شکار کرتے کرتے ایک سانپ اسے ٹکر گیا پر سکندر بادشاہ کی قسمت اچھی تھی کہ نہ صرف وہ بچ گیا بلکہ اس نے اس سانپ کا بھی خاتمہ کر ڈالا.
کچھ عرصے بعد سکندر بادشاہ کو ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی ملی اور وہ اتنی خوبصورت تھی کہ سکندر بادشاہ نے اس سے کسی بھی حال میں شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا. اب سکندر بادشاہ صدر زرداری کی طرح مادر پدر آزاد تو تھا ہی سو اس نے اس لڑکی سے شادی کر لی، سکندر بادشاہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ لڑکی کی مرضی ہے یا نہیں.
اب شادی تو ہوگئی پر تھوڑے ہی دنوں بعد سکندر بادشاہ بیمار پڑ گیا اور بیمار بھی ایسا کہ کوئی اس کا علاج ہی نہیں کر پا رہا تھا، کئی حکیم اور طبیب آئے پر سکندر بادشاہ کو آرام آنا تھا نہ آیا. پھر سکندر بادشاہ کا استاد السطو اس سے ملنے آیا اور اس کا حال دریافت کیا. سکندر بادشاہ کی تو پہلے ہی پھٹی ہوئی تھی وہ اپنے استاد کو کیا بتاتا. خیر استاد تو پھر استاد تھا خود ہی سمجھ گیا کہ ماجرا کیا ہے. استاد جی نے سکندر بادشاہ کو بتایا کہ بیٹا جی تم نے جو کچھ عرصے پہلے جنگل میں ایک سانپ کو مارا تھا وہ اصل میں ایک ناگ تھا اور یہ لڑکی جس سے تم نے شادی کی ہے حقیقت میں یہ اس ناگ کی ناگن ہے جس نے مرتے وقت اپنے ناگ کی آنکھوں میں تمہاری تصویر دیکھ لی تھی اور جب ہی اس نے تم سے بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اسی لئے اس نے تم سے آرام سے شادی کرلی اور اب وہ ناگن تمہیں مارنا چاہتی ہے اور اسی وجہ سے تمہارا بخار ٹھیک نہیں ہو رہا.
سکندر بادشاہ نے جب یہ سب سنا تو اس کا تو بستر گیلا ہوگیا اور اس نے السطو استاد سے پوچھا کہ استاد جی اب کیا کروں؟
السطو استاد نے اسے ایک تجویز دی کہ پورے یونان شہر کا اور پورے محل کا پانی بند کرا دے اور جب رات ہو جائے تو اپنی بیوی سے ایک گلاس پانی مانگنا. پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے . سکندر بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور رات کو اپنی بیوی سے ایک گلاس پانی مانگا. اب بیوی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کو پانی لا کر دے سو وہ پانی لینے گئی اور پانچ منٹ بعد واپس آکر کہنی لگی کہ میں نے پورے یونان شہر کا چکر لگا لیا ہے پر پانی کہیں نہیں ملا، یہ سن کر سکندر بادشاہ گھبرا گیا اور اسے یقین ہوگیا کہ السطو استاد کی بات ٹھیک ہے کنفرمیشن کے لئے اس نے کہا پھر بھی مجھے کہیں سے پانی لا کر دو تو ناگن نے خالی گلاس کھڑکی سے باہر نکالا اور جب واپس اندر کیا تو وہ بھرا ہوا تھا اب چونکہ سکندر بادشاہ نے شور مچایا ہوا تھا کہ پانی لاؤ پانی لاؤ تو اسے نہ چاہتے ہوئے بھی پانی پینا پڑا.
اگلے دن سکندر بادشاہ السطو استاد کے پاس گیا اور اسے یہ سارا ماجرا سنایا جس پر السطو استاد نے کہا کہ میں نے کہا تھا نہ کہ وہ عورت نہیں ناگن ہے ، جب تو نے اس کے ناگ کو مارا تھا تو اس ناگن نے بدلہ لینے کے لئے اپنے سو سال پورے ہونے کا انتظار کیا اور چونکہ سانپ کے سو سال پورے ہوتے ہی اللہ اس سے پوچھتا ہے کہ اے میری مخلوق بتا تو کیا بننا چاہتی ہے تو سانپ انسان بن جاتا ہے اور یہ بھی انسان بن گئی اور بدلے کی آگ میں تجھ سے شادی کرلی.
جاری ہے
ایک اور ایس ایم ایس
بلاول: ابو دو سال ہوگئے مسکین ہوئے، امی کے قاتل کا کیوں نہیں پتا چلا؟؟؟
زرداری: بیٹا ابھی تک تو مسکین ہو ، قاتل کا پتا چل گیا تو یتیم بھی ہوجاؤ گے..